خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 708 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 708

خطبات طاہر جلدے 708 خطبه جمعه ۲۱ /اکتوبر ۱۹۸۸ء اخلاص کے ساتھ اشترا کی تعلیم پر عمل ہو رہا تھا۔تو ان سے میں پوچھتا رہا کہ آپ فرمائیے کہ آپ کے ہاں جرائم موجود نہیں ہیں؟ اکثر لوگ اس بات کو ٹال دیتے تھے اور صحیح جواب نہیں دیتے تھے لیکن ایک دفعہ ایک ایسے دوست تشریف لائے جن کا تعلق چین کے ان رسائل سے تھا جو باہر کی دنیا میں تقسیم کرنے کے لئے خصوصیت سے تیار کئے جاتے ہیں۔China Reconstruct وغیرہ اس قسم کے بہت سے رسالے ہیں جو میں نے لگوار کھے تھے۔تو مجھے یہ ایک ذہن میں ترکیب آئی کہ اس سے اس طرح سوال کرنا چاہئے ہو سکتا ہے اس کے نتیجہ میں کوئی مفید مطلب بات حاصل ہو جائے۔میں نے ان سے کہا کہ آپ کا رسالہ میں بڑے شوق سے پڑتا ہوں ، بڑے دلچسپ مضامین ہیں لیکن اس رسالہ کے مطالعہ سے ایک بات مجھ پر دن بدن زیادہ ثابت ہوتی چلی جارہی ہے کہ اس میں کچھ دکھاوا ہے اور خصوصیت کے ساتھ بیرونی دنیا کو متاثر کرنے کے لئے یہ رسالہ بنایا گیا ہے۔انہوں نے کہا یہ کس طرح، آپ پہ یہ کیوں تاثر ہے۔میں نے کہا اس لئے کہ اس میں چینی معاشرے کی خوبیاں تو بیان ہوتی ہیں اس کی بدیوں کا کوئی ذکر نہیں ملتا۔کہیں کوئی کرائم کا ذکر نہیں ملتا۔میں نے کہا میں یہ سوچ بھی نہیں سکتا کہ کوئی انسانی معاشرہ بدیوں سے پاک ہو جائے۔بعض پہلوؤوں سے دولت کی مساوی تقسیم ہو سکتا ہے بعض بدیوں کو دبانے میں کامیاب ہو جائے لیکن دلوں میں پیدا ہونے سے وہ ان کو نہیں روک سکتی۔پھر انسان مختلف قسم کے بنے ہوئے ہیں کوئی خوبصورت ہے، کوئی بدصورت ہے، کوئی اونچے قد کا ہے کوئی چھوٹے قد کا ہے، کسی کو کسی سے محبت ہو گئی ہے، کسی کو کسی سے محبت ہوگئی ہے، رقابتیں ہیں اور نفسیاتی الجھنیں ہیں جو اس تفریق سے پیدا ہوتی ہیں جن کو دولت کی برابر تقسیم یکساں نہیں کر سکتی یہ تفریق جاری رہتی ہے اور میں نے بہت سی مثالیں دیں، لمبی گفتگو کی۔تو یہ میں کیسے مان جاؤں کہ آپ کے ہاں کرائم نہیں ہے۔تو جب آپ کرائم کو چھپا رہے ہیں اور اپنے اندرونے کو باہر کی دنیا سے چھپاتے ہیں تو ہمیں آپ کی ان خوبیوں پر بھی اعتماد نہیں رہتا جن کو آپ ظاہر کر رہے ہیں۔یہ بات ان کے دل کو لگی اور مجھے یقین ہے انہوں نے چین میں یہ سارا مضمون لکھ کر بھجوایا ہے کہ اس کے ایک دو مہینے کے بعد چین کے ان رسالوں میں تقریباً ہر رسالہ میں چین کی ، کمزوریوں کا ذکر آنا شروع ہو گیا اور یہ یہ بدیاں ہیں یہ یہ کرائمز ہیں، کس طرح زنا بالجبر کے نتیجہ میں ہم فلاں جگہ پھانسی دے دیتے رہے ہیں اور یہ حرکتیں ہوتی ہیں، وہ حرکتیں ہوتی ہیں اس کے ساتھ کچھ