خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 686 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 686

خطبات طاہر جلدے 686 خطبه جمعه ۱۴ را کتوبر ۱۹۸۸ء پیدا ہونے والی بدیوں کا شکار ہو گئے تھے۔قرآن کریم تو صاف بتارہا ہے کہ حضرت نوح پر تو بہت تھوڑے ایمان لائے تھے۔پھر حضرت نوح کے بیٹے کو نمایاں طور پر ، امتیازی طور پر کیوں پیش کیا گیا۔نعوذ باللہ حضرت نوح کی بدنامی تو مقصود نہیں تھی، یہ کہنا تو مقصود نہیں تھا کہ حضرت نوح اپنی اولاد کی بھی تربیت نہیں کر سکے کیونکہ حضرت نوح کی خاطر اور چند ان لوگوں کی خاطر جو آپ پر ایمان لائے تھے باقی ساری قوم کو غرق کر دیا گیا تھا۔اس لئے حضرت نوح کے بیٹے کو نمایاں طور پر پیش فرمانا ایک پیغام رکھتا ہے، ایک مقصد رکھتا ہے اور مراد یہی ہے کہ ایسے وقت میں جبکہ خدا تعالیٰ کا غضب بھڑ کے اس وقت کوئی دنیاوی تعلق اور کوئی جسمانی تعلق انسان کو بچانہیں سکتا۔ایک ہی کشتی ہے جو ایسے موقع پر انسان کو بچا سکتی ہے اور وہ اعمال صالحہ کی کشتی ہے۔چنانچہ جب حضرت نوح نے خدا سے عرض کیا، ایک دوسری جگہ قرآن کریم اس کا ذکر فرماتا ہے کہ اے خدا ! یہ تو میرا اہل ہے اور میرے اہل کے متعلق تو تو نے خوشخبری دی تھی کہ تیرے اہل کو بچایا جائے گا۔تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا نوح! جاہلوں میں سے مت ہو إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ أَهْلِكَ إِنَّهُ عَمَلٌ غَيْرُ صَاحِ (ھود: ۴۷) تیرا یہ بیٹا تیرے اہل میں سے نہیں ہے۔اس لئے نہیں ہے کہ اللہ عَمَلٌ غَيْرُ صَالِحٍ کہ یہ صالح اعمال نہیں رکھتا۔پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی جو کشتی نوح اس زمانے میں پیش فرمائی ہے وہ اعمال صالحہ ہی کی کشتی ہے۔اس لئے جماعت کا وہ حصہ جو اپنی کمزوریوں پر اصرار کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے ظاہر ہوتے ہوئے غضب کو دیکھنے کے باوجود جرات کرتا ہے اور اپنے حال پر قائم رہتا ہے اس کے متعلق نہ صرف یہ کہ کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی بلکہ یہ آیت بتا رہی ہے کہ وہ خدا جس نے اپنے پیارے نوح کے بیٹے کو بھی ایسے وقت میں استثنائی طور پر معاف نہیں فرمایا۔تم جو نسبتا ادنی درجہ کے لوگ ہوا اور خدا کے کم پیاروں کی اولاد ہو تمہارے تحفظ کی بھی ہرگز کوئی ضمانت نہیں دی جاسکتی۔لَا عَاصِمَ الْيَوْمَ مِنْ أَمْرِ اللهِ الْيَوْمَ سے مراد وہ زمانہ ہے جس میں خدا تعالیٰ اپنے غضب کے ساتھ ظاہر ہوا کرتا ہے۔عام دنوں میں خدا تعالیٰ کی بخشش کا مضمون اور رنگ میں چلتا ہے اور رنگ میں کارفرما ہوتا ہے۔عام دنوں میں خدا تعالیٰ کی ستاری کا مضمون اور طرز پر چلتا ہے اور رنگ میں ظاہر ہوا کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کی بخشش اور ستاری اور خدا تعالیٰ کی مغفرت اتنے وسیع ہیں کہ انسان ان کا تصور بھی نہیں کر سکتا لیکن اليوم وہ دن جبکہ خدا نا فرمانوں کی پکڑ کے فیصلے کرتا ہے اور ان کے متعلق