خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 669 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 669

خطبات طاہر جلدے 669 خطبه جمعه ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء خلقت اور شمائل کا شخص ہے گویا انسان نہیں ملائک شدا دوغلاظ میں سے ہے اور اس کی ہیبت دلوں پر طاری تھی اور میں اس کو دیکھتا ہی تھا کہ اس نے مجھ سے پوچھا کہ لیکھر ام کہاں ہے اور ایک اور شخص کا نام لیا کہ وہ کہاں ہے۔(صرف لیکھرام کے لئے وہ مامور نہیں تھا ایک اور شخص کے لئے بھی وہ مامور تھا)۔تب میں نے اس وقت سمجھا کہ یہ شخص لیکھر ام اور دوسرے شخص کی سزا دہی کے لئے مامور کیا گیا ہے۔مگر مجھے معلوم نہیں ہورہا کہ وہ دوسرا شخص کون ہے۔“ ( بركات الدعا، روحانی خزائن جلد ۶ صفحه :۳۳) بہر حال جیسا کہ تمام احباب کو خوب اچھی طرح علم ہے کہ لیکھرام کی ہلاکت جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں سے ظاہر تھا عین اسی طریق پر ہوئی جس طریق پر آپ کو خدا تعالیٰ نے کشفاً اور الہاما خبریں دے رکھی تھیں۔لیکھرام کی ہلاکت اور فرعون کی ہلاکت میں دونوں میں بعض چیزیں مشترک ہیں۔دونوں ایک لمبے عرصے تک دکھ دیتے رہے لیکن ان کا اپنا انجام بہت تھوڑے سے عرصے میں ختم ہو گیا۔یعنی دنیا میں ان کو لمبا دکھ دیکھنا نصیب نہیں ہوا۔اس کے نتیجہ میں بعض دفعہ لوگ یہ سوال کرتے ہیں کہ اتنا لمبا عرصہ انہوں نے دکھ دیا، اتنی تکلیفیں پہنچا ئیں اور آنا فانا اس دنیا سے رخصت ہو گئے تو اس میں مزہ کیا آیا۔کچھ دیر یہ تڑپتے ، کچھ دیر بے قرار رہتے اس دنیا میں ذلت اور رسوائیاں دیکھتے تو ہم سمجھتے کہ واقعی انتقام ہے۔ایسے لوگ اپنے آپ کو یا تو خدا سمجھتے ہیں کہ ہم تقدیر بناتے تو بہتر بناتے یا وہ ان کو اس بات پر ایمان ہی نہیں کہ دنیا ایک دنیا نہیں بلکہ دو دنیا ئیں ہیں۔دنیا تو لفظ اسی دنیا پر اطلاق پائے گا یوں کہنا چاہئے کہ ایک عالم نہیں دو عالم ہیں۔ایک اس دنیا کا عالم اور ایک آخرت کا عالم اور خدا تعالیٰ کا جہاں تک تعلق ہے اس کے لئے تو ان دو عالموں کے درمیان کوئی بھی فرق نہیں۔جیسے ایک لکیر پھلانگ کر کوئی شخص دوسری طرف چلا جائے اور ایک ہستی جو دونوں طرف دیکھ رہی ہو اور دونوں جگہوں پر پورا اختیار اور قدرت رکھتی ہو۔جہاں تک اس کی نظر کا تعلق ہے اس کی نظر میں کوئی بھی فرق نہیں پڑا کوئی بھی واقعہ نہیں ہوا۔لکیر کے اس طرف ہو کوئی یا اس طرف ہو جس کے قبضہ قدرت میں دونوں جگہیں یا دونوں میدان ہوں اس کی نظر میں تو کوئی فرق نہیں پڑتا لیکن ایک طرف کے لوگوں