خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 666 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 666

خطبات طاہر جلدے 666 خطبه جمعه ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء ثابت ہوتا ہے۔یعنی اگر وہ تو بہ نہ کرتا تو اس کے جسم کا کوئی وجود، کوئی نشان باقی نہ رہتا اور وہ اپنے وجود کے مٹ جانے کے ذریعے عبرت کا نشان بن جاتا۔عبرت تو بہر حال دونوں صورتوں میں اسے بننا ہی تھا۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے میں فرعون کے نشان کے سوا اور بھی باتیں ہوئی جن کا قرآن کریم میں ذکر ملتا ہے۔ان میں ایک ذکر سامری کے بچھڑے کا ہے کہ کس طرح سامری کے فتنہ کے نتیجہ میں ایک بچھڑے کو خدا بنالیا گیا اور پھر اس بچھڑے کے انجام کا ذکر ملتا ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا جب لیکھرام سے اس وجہ سے مقابلہ ہوا کہ لیکھر ام حضرت اقدس محمد مصطفی ملالہ کے خلاف انتہائی بدزبانی کرتا تھا اور دریدہ دہنی سے کام لیتا تھا۔تو اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو لیکھرام کا جو انجام دکھایا گیا وہ سامری کے گوسالہ بچھڑے کے مطابق دکھایا گیا۔پس اگر چہ یہ نشان اس زمانے میں ظاہر ہوالیکن اس کا آغاز جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا حضرت موسی کے زمانے ہی میں ہو چکا تھا اور خدا تعالیٰ نے ان دونوں کو آپس میں اس طرح باندھ دیا اور اس نشان میں یعنی گوسالہ کے نشان میں یہ بات بڑی واضح ہے کہ گوسالہ خود اپنی پیدا وار آپ نہیں تھا بلکہ اس کے پیچھے کوئی اور طاقت تھی جس نے اس کو کھڑا کیا تھا اور جو کچھ وہ بولتا تھا اس کی اپنی زبان نہیں تھی بلکہ جو کچھ اس میں بھرا گیا تھا وہی بولتا تھا اور اس کے پیچھے ایک طاقت تھی جو سامری کی طاقت کہلاتی ہے۔پس اس بات کو پیش نظر رکھتے ہوئے جب آپ آگے بڑھیں گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے الہامات اور لیکھرام کے انجام پر غور کریں گے تو اس میں آپ کو بہت سے روحانی سبق ملیں گے۔سب سے پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کولیکھر ام کے بارے میں خدا تعالیٰ کی طرف سے ۱۸۸۶ء میں خبر دی گئی ہے۔اس لئے یہ خیال کرنا کہ جس وقت وہ پیشگوئی شائع ہوئی کہ چھ سال کے اندر اندر تم ہلاک کئے جاؤ گے وہی اس پیشگوئی کا آغاز ہے درست نہیں ہے۔اشتہار ۲۰ فروری ۱۸۸۶ ء جس کا تعلق حضرت مصلح موعودؓ کے ساتھ ہے اس اشتہار ہی میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اسی زمانے میں آپ نے بڑی وضاحت کے ساتھ لیکھرام کے متعلق ایسے اندار کا ذکر فرمایا جوخدا تعالیٰ نے آپ کو عطافرمایا تھا۔جس کی خبر خدا تعالیٰ نے آپ کو دی تھی۔چنانچہ آپ لکھتے ہیں: