خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 665 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 665

خطبات طاہر جلدے 665 خطبه جمعه ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء لیکھرام کی موت کا عظیم الشان نشان۔دنیا کی دولتوں اور وجاہتوں کو بت نہ بنائیں ( خطبه جمعه فرموده ۷ اکتوبر ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: گزشتہ جمعہ میں میں نے آغاز ہی میں ذکر کیا تھا کہ انشاء اللہ تعالیٰ دو ایسے عظیم الشان نشانات کا ذکر کروں گا جن سے مومن کا ایمان تازہ ہوتا ہے۔ایک نشان کا تعلق حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے ہے اور دوسرے نشان کا تعلق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے سے ہے اور ان دونوں کے درمیان آپس میں رابطہ بھی ہے اور دونوں نشان ایسے ہیں جو درحقیقت ایک بہت ہی لمبے زمانے پر پھیلے ہوئے ہیں اور ایک کا آغاز اس وقت ہوا اور انجام اس زمانے میں یعنی دوسرا کنارہ اس زمانے میں ظاہر ہوا۔ایک بظاہر اس زمانے میں ظاہر ہوا ہے لیکن اس کا پہلا کنارہ الہامات سے پتا چلتا ہے کہ حضرت موسی کے زمانے میں ہی پیوستہ تھا۔حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانے والا جو نشان میں نے آپ کے سامنے پیش کیا تھا وہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اور فرعون کا مقابلہ تھا جس کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ نے فرعون کی ہلاکت کے سامان پیدا فرمائے اور حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کی قوم کی نجات کے سامان پیدا فرمائے۔اس ضمن میں یہ بات قابل توجہ ہے کہ جہاں قرآن کریم یہ ذکر کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے فرعون سے وعدہ کیا کہ چونکہ تو اب تو بہ کر رہا ہے اس لئے اگر چہ تیری روح کی نجات کا وقت نہیں لیکن میں تیرے جسم کو نجات دوں گا۔اس کا برعکس بھی اسی الہام سے ثابت ہوتا ہے،اسی خدائی کلام سے