خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 642 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 642

خطبات طاہر جلدے 642 خطبه جمعه ۲۳ /ستمبر ۱۹۸۸ء اور بعض جگہ اختلاف بھی کیا مگر بہت ہی مہذبانہ طریق پر۔اُن کے مقابل پر یہ بیچارے بداخلاق دکھائی دے رہے تھے۔میں ان کا مقابلہ ہر گز نعوذ باللہ پاکستان اور ہندوستان کے علماء کے ایک ٹولے سے نہیں کر رہا۔مگر جب میں یہ کہتا ہوں کہ ٹولہ تو اس سے ہر گز مراد یہ نہیں ہے کہ بڑی تعداد ہے اُن علماء کی میں جانتا ہوں ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی جو شریف النفس لوگ ہیں ، خدا کا خوف رکھنے والے ہیں اپنے کام سے کام رکھنے والے ہیں لیکن اکثر ان لوگوں کی زبان نہیں ہے بیچاروں کی۔اکثر تیسری دنیا کے ممالک میں ایک یہ بھی بیماری ہے یہاں شرافت گونگی ہوتی ہے اور شرافت سے ہٹ کر جو دوسری قدریں ہیں وہ جتنا بلند ہوتی چلی جاتی ہیں اتنا اُن کو زبان مالتی چلی جاتی ہے۔یہاں تک کہ بدی کے انتہائی مقام پر ایسی بلند آواز کے ساتھ آپ کو شور مچانے والے لوگ ملیں گے گویا وہ سارے ملک کی آواز کے نمائندہ بن گئے ہیں۔اس پہلو سے غلط فہمی بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ہمارے ملک کے علماء بھی نعوذ باللہ من ذالک سارے ایک جیسے نہیں بلکہ میں یہ یقین رکھتا ہوں کہ اُن ایک بھاری اکثریت ہے جنہوں نے اس تمام مخالفت کے دور میں بھی خاموشی اختیار کی ہے اور شرافت کا مظاہرہ کیا اور اپنے اپنے حلقے میں دبی ہوئی زبان سے، ڈری ہوئی زبان سے اس بات کا بھی اظہار کیا کہ یہ ظلم ہورہا ہے۔چنانچہ بعض ایسے علماء نے مجھے بھی خط لکھے اور اگر چہ اُن کے نام کا اظہار کرنا مناسب نہیں تھا نہ میں نے کیا لیکن انہوں نے بالکل کھل کر اس بات کا اظہار کیا کہ ہم بے باک تو ضرور ہیں ہماری شرافت زندہ ہے اور ان تمام حرکتوں کو پاکستان میں احمدیت کے خلاف ہو رہی ہیں ان کو مذموم اور نا پسندیدہ اور اسلامی اخلاق سے سخت گری ہوئی حرکتیں سمجھتے ہیں۔اس لئے اچھے لوگ تو ہر سوسائٹی میں موجود ہیں لیکن بعض سوسائٹیوں کے برے اتنے برے ہو جاتے ہیں کہ اپنی برائیوں میں اتنے نمایاں ہو جاتے ہیں کہ سارے ملک کی شرافت کو اُن کے ذریعہ داغ لگ جاتا ہے اس پہلو سے میں مقابلہ کر رہا ہوں کہ آپ خوش قسمت ہیں کہ آپ کے علماء اُس مقام کے ابھی دسویں حصے کو بھی نہیں پہنچے۔ایک اور اہم بات جس کا ذکر ضروری ہے وہ گزشتہ بزرگوں کی یاد کوزندہ کرنا ہے، اُن کے لئے تمام دنیا کی جماعتوں کو دعا کی تحریک کرنا ہے۔ماریشس کی تاریخ میں یہ مختصر سا کر دار حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی ڈاکٹر لعل دین صاحب نے ادا کیا۔وقتی طور پر تھوڑی دیر کے لئے (۱۹۱۴ء) یہاں تشریف لائے اور ایک بڑی نسل پیچھے چھوڑ گئے لیکن ماریشس اُن کا مقصود نہیں۔