خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 590 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 590

خطبات طاہر جلدے 590 خطبه جمعه ۲۶ اگست ۱۹۸۸ء کھلا ، برسر عام۔اُن کو بتائیں کہ تم کون ہو اور تمہاری کیا ذمہ داریاں ہیں تم کس جرم میں شریک بنالئے گئے ہو اور یہ اعلان کریں کہ ہم کسی قیمت پر بھی اپنی طاقت کو تم سے خیرات کے طور پر نہیں مانگیں گے۔اُن کی طاقت کا راز اس چیز کے سوا کسی میں پوشیدہ نہیں۔فی الحقیقت عوام کے سرچشمے کی بات جب میں کرتا ہوں تو مراد ہے ڈیموکریسی۔ڈیموکریسی میں طاقت عوام کے پاس ہوا کرتی ہے اور اصل سرچشمہ وہی ہیں اس لئے عوام کو اُن کی طاقت کا احساس دلا نا اور اُن کی طاقت سے ناجائز کھیلنا نہیں بلکہ حکمت کے ساتھ اُن کی طاقت کے رُخ کو معین را ہوں پر چلانا یہ ہے سیاست کا کام اور یہ بدنصیبی سے ہمارے بہت سے تیسری دنیا کے ملکوں میں نہیں کیا جاتا۔آج سے پہلے اگر وقت نہیں تھا تو اب وقت ہے اور اگر یہ وقت ہاتھ سے گیا تو پھر کوئی وقت نہیں آئے گا۔پھر اور قسم کے خطرات ہیں جو مجھے دکھائی دے رہے ہیں جنہوں نے لازماً اُن کے بعد آنا ہے۔آج وہ وقت آچکا ہے کہ جب بیرونی طاقتوں کو اتنی بے حیائی کی جرات ہو چکی ہے کہ وہ کھلم کھلا اپنے بیانات میں یہ کہہ رہے ہیں کہ اگر اس ملک کی سیاست میں فوج داخل نہ رہی تو ہم اُن سے تعلق تو ڈلیں گے۔یعنی دھمکی دی جارہی ہے کہ ہم تمہیں بے یارومددگار چھوڑ دیں گے۔خصوصیت کے ساتھ امریکہ میں ابھی حال ہی میں ایک بیان منسوب ہوا ہے اُن کی Strategic Studies کا جو ڈیپارٹمنٹ ہے اُس کی طرف اللہ بہتر جانتا ہے کہاں تک یہ سچ ہے لیکن اُن کی طرف یہ بیان منسوب ہوا ہے کہ اگر پاکستان کی سیاست سے فوج نے کنارہ کشی اختیار کی، دست کشی اختیار کی تو لازم نہیں ہم پر کہ ہم اُن کی امداد کریں یعنی ملک کی امداد کریں اور امداد سے ہم ہاتھ کھینچ لیں گے اور یہ ایک دھمکی ہے۔فوج کو یہ اشارہ کہ تم قابض رہو اور سیاست دان کو دھمکی ہے کہ ہم تمہیں بے یار و مددگار چھوڑ دیں گے اور اگر تم نے کوشش بھی کی کہ فوج کے تسلط سے اپنے ہی ملک کو آزاد کر ولیکن یہ دھمکی بالکل بے معنی اور لغو ہے اور گیڈر بھبھکی سے زیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔میں اپنے ملک کے دانشوروں کو یقین دلاتا ہوں اس دھمکی میں کوئی جان نہیں ہے۔وہ آپ کے محتاج ہیں آپ اُن کے ہر گز محتاج نہیں۔آج دنیا کے سیاسی نقشے میں پاکستان کو ایک ایسا مقام حاصل ہے جس میں یہ ممالک جو آج آپ کے دوست بنتے بنتے آپ پر قابض ہو چکے ہیں آپ کو چھوڑنے کی استطاعت نہیں رکھتے کیونکہ آپ کو چھوڑنے کا مطلب یہ ہے کہ اُس علاقے میں لازماً دوسری طاقت کا تسلط ہو جائے اور یہ