خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 576
خطبات طاہر جلدے 576 خطبه جمعه ۱۹ اگست ۱۹۸۸ء ہو مگر ہم تمہیں تمہارے ضمیر کا واسطہ دیتے ہیں تمہارے وطن کی محبت کا واسطہ دیتے ہیں۔تمہاری ماؤں اور بہنوں کی عزت کا واسطہ دیتے ہیں تمہارے بلکتے ہوئے بچوں کا واسطہ دیتے ہیں کہ خدا کے واسطے اپنی ہی قوم کی آزادی کو نہ لوٹو۔چھین سکتے ہو کیوں نہیں چھین سکتے۔طاقت کی بحث نہیں ہے مگر اگر چھینو گے تو ہمیشہ کے لیے ملعون بن جاؤ گے، ہمیشہ کے لیے تاریخ میں عبرت کا ایک نشان بن جاؤ گے۔میر جعفر کے نام کی طرح تمہارے نام پر لعنتیں ڈالی جائیں گی۔تمہارا نام میر صادق کا نام بن کر دوبارہ اُبھرے گا۔یہ بتاؤ اس قوم کو کیا کسی باپ کو اختیار نہیں کہ اپنے معصوم بچے کو دیوار کے ساتھ ٹکراکر اُس کے دماغ کا بھیجا باہر نکال دے، اُس کے سر کو پارہ پارہ کر دے ممکن کیوں نہیں طاقت ہے۔پر کس صاحب ضمیر انسان میں یہ طاقت ہے بتائیے۔ہاں اگر ضمیر مر جائے اور انسان پاگل ہو جائے اور کوئی سوچ باقی نہ رہے۔جذبات تباہ ختم ہو چکے ہوں تو پاگل مائیں بھی بعض دفعہ اپنے بچوں کا سر دیوار سے چیخ کر اُس کا بھیجا باہر نکال دیتی ہیں اُس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیتی ہیں۔امریکہ میں ایسے واقعات ہوئے میں نے خود پڑھے ہیں کہ ایک ماں نے خود اپنے بچے کا سر دیوار سے بچا اور اُس کے ٹکڑے ٹکڑے اڑ گئے اور اُس کا بھیج با ہر نکل کر پھیل گیا۔ایسا مکر وہ منظر لوگوں نے دیکھا۔تو کیا پاکستانی فوج کے لیے یہی مقدر رہ گیا ہے؟ کون کہتا ہے کہ تم میں طاقت نہیں ہے۔مگر یا درکھو تم نے یہ طاقت ہم سے حاصل کی ہے اپنی بیویوں سے، اپنے بچوں سے ، اپنی ماؤں سے حاصل کی ہے۔قوم کے کمزور مزدوروں سے حاصل کی ہے۔ان غریبوں سے حاصل کر کے پھر تم اس پر مسلط ہو جاؤ کوئی تم میں شرم باقی نہیں۔اس لیے غیرت کے نمونہ کا اظہار کرو اپنی حمیت کا اظہار کر وقوم کی آزادی کی خاطر جو تمہاری اپنی آزادی کا پیغامبر ہے۔تم قوم کو آزادی دلاؤ اس کے بغیر نہ کبھی تم باضمیر انسان کے طور پر زندہ رہ سکتے ہو ، نہ ایک باضمیر فوج کے طور پر تم میں زندہ رہنے کی اہلیت رہے گی۔ایسی فوجیں جو اپنے عوام پر مسلط ہوں لازماً باہر سے طاقت حاصل کیا کرتے ہیں یہ نقطہ کیوں نہیں سمجھتے یہ لوگ کبھی دنیا میں کوئی فوج باقی نہیں رہ سکتی جب تک اُس کی طاقت کا کوئی سرچشمہ نہ ہو۔اب عوام کو اگر متنفر کر لیا ہے، اگر عوام پر مسلط ہوگئی ہے تو پھر بیرونی طاقتوں کے سہارے پر یہ فوجیں مجبور ہو جایا کرتی ہیں اور یہی وہ راز ہے جسے سمجھ کر غیر قو میں غریب قوموں پر حکومت کرتی ہیں۔فوج کو رشوت دینا سکھاتی ہیں، فوج کے چند افسروں کو ظلم کرنا سکھا دیتی ہیں اور اُن کے سپرد