خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 575 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 575

خطبات طاہر جلدے 575 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء آجائے اُس سے یہ باہر نہیں جاسکتے اور فوجوں کی بقا کے لیے یہ ضروری ہوا کرتا ہے۔اس لیے ایسی مشینری ہے جو بے اختیار ہو چکی ہے۔آپ کیوں ساری مشینری کے ہر کل پرزے کے خلاف نفرت کی تعلیم دیتے ہیں۔جب بھی آپ باتیں کرتے ہیں اندرونی طور پر اس کی Information انٹیلی جنس کے ذریعے فوج کو پہنچتی ہے خواہ وہ سندھ میں باتیں ہو رہی ہوں یا بلوچستان میں یا سرحد میں یہ سب اچھی طرح باخبر ہوتے ہیں کہ یہ منصوبے بنا رہے ہیں کہ ایک دفعہ ہم آئیں سہی پھر ہم ان کو مزہ چکھائیں گے۔پھر جب یہ اعلان ہوتے ہیں کہ فوج کم کر دی جائے اور اُس کی طاقت ختم کر دی جائے ، ہمیں ضرورت نہیں ہے۔یہ ساری تنبیہات ہیں جو فوج کو پہلے سے مل رہی ہیں اور یہ علاج نہیں۔علاج یہ ہے کہ فوج کو بتائیں کہ تم بڑے ظلم کرنے والے ہو تمہیں پتا ہی نہیں کہ عالمی سیاست میں ہو کیا رہا ہے۔تم غیر قوموں کے آلہ کار بن گئے ہو۔تمہیں یہ پتا نہیں کہ تم کس لیے کیا کر رہے ہو، تمہاری Direction نہیں رہی۔کوئی تمہارا رخ معین نہیں ہے اور آنکھیں بند کر کے بیرونی طاقتوں کے آلہ کار بنتے ہوئے اپنے وطن کے اوپر تم مسلط ہو گئے شرم نہیں آتی تمہیں کوئی حیا باقی نہیں رہی کہ جس فوج کو غیر قوموں کے تسلط سے بچانے کے لیے قائم کیا گیا تھا اور ساری قوم اپنا خون پلاتی ہے تمہیں اس وجہ سے کہ تم ہمیں غیروں کے تسلط سے محفوظ رکھو، اس پر تم خود مسلط ہو گئے ہو۔فوج کا ضمیر آج بھی زندہ ہے اُسے جھنجوڑیں تو سہی۔فوج کی بھاری اکثریت سمجھے گی اس بات کو بغیر خون خرابے کے بغیر ان کے خلاف نفرت کی تعلیم دیئے ، ان کے اندر ایک شعور بیدار ہوگا۔یہ اپنے افسروں کو کہیں گے کہ ہم یہ نہیں ہونے دیں گے۔ابھی چند دنوں ہوئے ہم نے آزادی حاصل کی تھی اور اپنی آزادی کے اوپر ہم خود تبر بن کے پڑیں اور آزادی کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیں، ہرگز ایسا نہیں ہو گا یہ آواز اگر باہر سے اُٹھے گی تو فوج میں مدافعت پیدا کرے گی۔اگر فوج کے اندر سے اُٹھنی شروع ہوئی تو یہ آواز فوج کو آزادی کا احساس دلائے گی ، اپنی ذمہ داریوں کا احساس دلائے گی۔اس نعرہ کے خلاف مدافعت پیدا نہیں ہوگی بلکہ اس کے حق میں مزید فوجی اور آواز میں بلند کرنا شروع کر دیں گے یعنی ایک آواز بڑھتے بڑھتے دو تین چار آوازوں میں تبدیل ہوگی اور یہ اعلان کرنا اخبارات میں ایسے بیان دینا ہرگز ملک کے مفاد کے خلاف نہیں ہے، کوئی قانون شکنی نہیں ہے۔آپ کوئی نفرت کی تعلیم نہیں دے رہے۔آپ یہ معاملہ کھول کے بیان کر رہے ہیں کہ دیکھو یہ ہورہا ہے ایسا نہ کرو تم کر سکتے