خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 563
خطبات طاہر جلدے 563 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء یکم جولائی ۱۹۸۸ء کے خطبے سے اقتباس ہے۔تو اس مضمون میں کھول کر ان کو بتادیا گیا تھا کہ اگر آپ ظلم سے بعض نہ آئے تو پھر یقیناً پکڑے جائیں گے اور اگر ظلم سے باز آگئے اور اپنی پالیسی تبدیل کر لی تو اس کو آپ کی طرف سے چیلنج سے بچنا قرار دے دیا جائے گا دیا جاسکتا ہے اور ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ایسی صورت میں اللہ تعالیٰ آپ کو نہیں پکڑے گا لیکن افسوس ہے کے انہوں نے اس مہلت سے فائدہ نہیں اٹھایا۔چنانچہ میں نے ۱۲ اگست ۱۹۸۸ء کو خطبہ میں چند دن پہلے یہ اعلان کیا :۔یہ استہزاء میں بڑھ رہے ہیں اور اپنے گزشتہ کردار میں کوئی تبدیلی پیدا نہیں کر رہے یہ علماء اور مخالفین کے متعلق بیان ہے صرف خصوصیت سے ضیاء صاحب کے متعلق نہیں۔استہزا میں بھی بڑھ رہے ہیں، ظلم میں بھی بڑھ رہے ہیں، یہاں سے حکومت کا ذکر شروع ہونا چاہئے اور حکومت کا جہاں تک تعلق ہے وہ معصوم احمدیوں پر قانونی حربے استعمال کر کے طرح طرح کے ستم ڈھا رہی ہے اور آپ کو یاد ہوگا کہ میں نے آغاز ہی میں حکومت کو متنبہ کیا تھا کہ آپ اگر اپنی شان کے خلاف بھی سمجھتے ہوں چیلنج کو قبول کرنا اگر آپ زیادتیوں سے باز نہ آئے اور ظلم و ستم کی یہ راہ نہ چھوڑی تو جہاں تک میں سمجھتا ہوں خدا کی تقدیر اسے مباہلہ کا چیلنج قبول کرنے کے مترادف بنائے گی اور آپ سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔یہ وہ ذکر ہے جس کے چند دن کے بعد اللہ تعالیٰ کی تقدیر ظاہر ہوئی اور وہ آج دنیا میں خوب شہرت پکڑ چکی ہے۔۱۲ اگست کے خطبے میں میں نے یہ بھی ذکر کیا۔” خدا کی تقدیر لازماً ان کو پکڑے گی اور لازماً ان کو سزا دے گی جوان شرارتوں سے باز نہیں آئیں گے۔“ بہر حال یہ ایک ایسا عظیم الشان تاریخی نوعیت کا نشان ہے جس کے اوپر ہمارے لیے اللہ تعالیٰ کی نصرت کے ظاہر ہونے کے نتیجے میں شکر واجب ہو گیا ہے اور یہ شکر خدا تعالیٰ کی حمد کے ذریعے ظاہر ہونا چاہئے یعنی شکر کا اظہار اللہ تعالیٰ کی حمد کے ذریعے ہونا چاہئے۔کثرت کے ساتھ جماعت احمدیہ کو ان دنوں میں حمد میں مصروف رہنا چاہئے اور اُس کے ساتھ ساتھ درود شریف بھیجنا چاہئے