خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 560 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 560

خطبات طاہر جلدے 560 خطبه جمعه ۱۹ راگست ۱۹۸۸ء ہے کہ ہمیں اُن کے پسماندگان سے بھی ہمدردی ہے اور اُن کے ساتھ مرنے والوں کے پسماندگان سے بھی ہمدردی ہے اور میں نے جماعت احمدیہ کے سربراہ کی حیثیت سے اُن کو تعزیت کا پیغام بھی بھجوایا ہے اور بلا تردد میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میرے دل میں ان کے دلوں کے لیے رحم تو ہے کسی قسم کی شوخی، کسی قسم کا تمسخر، کسی قسم کی مفاخرت کا کوئی جذبہ نہیں ہے اور یہی حال میں جماعت احمدیہ کا دیکھنا چاہتا ہوں اور یہی حال میں سمجھتا ہوں کہ جماعت احمدیہ کا ہے۔خوشی بھی ہے اور ہر گز ہم اُس کا انکار نہیں کر سکتے کیونکہ مومن کسی قسم کی مداہنت کی خاطر جھوٹ نہیں بول سکتا۔امر واقعہ یہ ہے کہ تمام عالم میں آج احمدیوں کے دل راضی ہیں اور بہت خوش ہیں۔کیوں خوش ہیں اس لئے نہیں کہ کوئی الف مرایا ب مراء اس لیے خوش ہیں کہ بنصر اللہ کہ اللہ کی نصرت کو آتے ہوئے انہوں نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا ہے۔وہ جس کے انتظار میں وہ دن گنا کرتے تھے۔اُس نصرت کو سورج کی طرح روشن آسمان سے نازل ہوتے ہوئے دیکھ لیا ہے اور یہ وہ تاریخی دور ہے جس میں سے آج گزر رہے ہیں۔اس دور میں سے گزرنا ایک ایسی سعادت ہے جو قسمت کے ساتھ قوموں کو نصیب ہوا کرتی ہے۔ایک ایسا نشان ظاہر ہوا ہے کہ جن لوگوں نے اس نشان کو دیکھا ہے اُن کی نسلیں ہمیشہ فخر سے یاد کیا کریں گی کہ ہمارے آباؤ اجداد کے زمانے میں اللہ تعالیٰ کی نصرت کا یہ عظیم الشان نشان ظاہر ہوا۔پس ہماری خوشی ہر گز کسی کی موت یا کسی کے دُکھ سے وابستہ نہیں ہے۔اس خوشی کے باوجود ہمیں ان کی تکلیفوں کا احساس بھی ہے اور ان کی تکلیفوں کا دُکھ بھی ہے۔مومن کے برعکس جو لوگ ایمان کی حلاوت سے آشنا نہیں ہوتے جن کو قرآن اور سنت کی صحیح تربیت حاصل نہیں ہوتی۔اُن کے رد عمل اس سے مختلف ہوا کرتے ہیں۔وہ دشمن کی چھوٹے سے غم پر بگلے بجاتے ، ناچتے اور تمسخر کرتے اور اُس کی چھوٹی سی خوشی پر نڈھال ہو جاتے ہیں گویا ان پر موت وارد ہو گئی ہے۔ہم سے بالکل برعکس صورتحال احمدیت کے دشمنوں کی ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ ہمارے دعوی کی سچائی اس بات میں مضمر ہے کہ خدا نے حال ہی میں دو نشان دکھائے ہیں۔ایک دشمن کی زندگی کا اور ایک دشمن کی موت کا۔جب ہم نے خدا کی طرف سے دشمن کی زندگی کا نشان دیکھا تب بھی ہم خوش ہوئے اور جب ہم نے اپنے مولیٰ کی طرف سے دشمن کی موت کا نشان دیکھا تب بھی ہم خوش ہوئے۔اللہ تعالیٰ کی نصرت کے نشان پر ہم خوش ہیں کسی کی موت اور زندگی سے ہماری خوشیوں کا کوئی تعلق نہیں۔اس