خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 559 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 559

خطبات طاہر جلدے 559 خطبه جمعه ۱۹ را گست ۱۹۸۸ء مباہلہ کا اعجازی نشان جنرل ضیاء الحق کی ہلاکت اور پا کستانی رہنماؤں کو قیمتی نصائح ( خطبه جمعه فرموده ۱۹ار اگست ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: پنجابی کے ایک صوفی منش شاعر جو پنجابی عوام میں بہت مقبول ہیں اُن کا نام میاں محمد بخش ہے۔اُن کا ایک شعر ہے یا شعر کا ایک مصرعہ ہے کہ ٤ دشمن مرے تے خوشی نہ کریئے سجناں وی مر جاناں اس چھوٹے سے پنجابی کے مصرعے میں بڑی حکمت بیان کی گئی اور جہاں تک مومن کی تربیت کا تعلق ہے جو قرآن اور سنت نے مومن کی تربیت کی ہے۔اُس میں یہ بات بہت اچھی طرح داخل ہے اور مومن کے مزاج کا حصہ بنادی گئی ہے کہ کسی کی موت پر کسی کے غم پر خوشی نہیں کرنی چاہئے۔لیکن اس کے باوجود بعض ایسے مواقع آتے ہیں کہ بعض خوشیوں کا موت سے تعلق بن جاتا ہے۔فی ذاتہ موت خوشی کا باعث نہیں ہوتی بلکہ اُس کے پیچھے کوئی اور حکمت کار فرما ہوتی ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو خوب کھول کے بیان کرتے ہوئے فرمایا وَ يَوْمَذِ يَفْرَحُ الْمُؤْمِنُوْنَ بِنَصْرِ اللَّهِ (الروم : ۶،۵) کہ آج کے دن مومن بہت خوش ہیں۔اس لیے نہیں کہ کسی کو شکست ہوئی ہے یا کوئی مارا گیا ہے بِنصر اللہ اس لیے کہ خدا کی نصرت اُن کی مدد کو آئی ہے۔پس جنرل ضیاء الحق صاحب کی موت بذات خود ہر گز کسی خوشی کا موجب نہیں۔امر واقعہ یہ