خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 550 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 550

خطبات طاہر جلدے 550 خطبه جمعه ۱۲ را گست ۱۹۸۸ء لا استعمال فرمائی گئی یہاں فرمایا قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِكُمْ سُنَنٌ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِبِينَ (آل عمران : ۱۳۸) اس سے پہلے تم سے پہلے لوگوں کی سنت تمہارے سامنے گزر چکی ہے اور اس سنت کا ایک حصہ یعنی اُن کی کج روی ،اُن کی بغاوت، اُن کا طفی یہ سب چیزیں تم پر روشن ہیں لیکن تم زمین پر پھر کے خوب سیر کر کے دیکھو تو سہی کہ ان کی عاقبت کیسے ہوئی تھی۔ان جھٹلانے والوں کا انجام کیا تھا۔پس سنت میں یہ دونوں باتیں داخل ہیں اُن کی بد اعمالی، اُن کا انکار اور پھر اُن کا انجام۔چنانچہ سنن کے تابع ان دونوں مضامین کو قرآن کریم میں یہاں اکٹھا بیان فرما دیا ہے پھر الانعام آیت ۱۲ میں فرمایا قُل سِيرُوا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (الانعام :۱۲) اے محمد مخاطب حضور اکرم ہیں۔محمد کا نام تو ظاہر نہیں فرمایا گیا لیکن مراد یہی ہے کہ اے میرے رسول تو اُن سے کہہ دے، ان کو پیغام پہنچا دے سِيرُوا فِي الاَرضِ وہ خوب زمین میں سیر کریں اور پھر کر سیاحت کر کے پرانی قوموں کے انجام کا مشاہدہ کریں ثُمَّ انْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ پھر یہ دیکھیں سمجھیں کہ اس سے پہلے تکذیب کر نیوالے جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا تھا پھر فرمایا: وَلَقَدْ بَعَثْنَا فِي كُلِّ أُمَّةٍ رَّسُوْلًا أَنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوْتَ فَمِنْهُمْ مَّنْ هَدَى اللَّهُ وَمِنْهُمْ مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الصَّللَةُ فَسِيرُوا فِي الْأَرْضِ فَانْظُرُوا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُكَذِّبِينَ (الحل:۳۷) کہ ہم نے ہر امت میں رسول مبعوث فرمائے تھے اور ان کو یہ پیغام دیا تھا آنِ اعْبُدُوا اللهَ وَاجْتَنِبُوا الطَّاغُوتَ کہ اللہ کی عبادت کرو اور طاغوت سے اجتناب کرو۔یعنی شیطانی طاقتوں سے الگ رہو فَمِنْهُم مَّنْ هَدَى اللهُ اُن میں سے بعض وہ تھے جن کو خدا نے ہدایت عطا فرمائی وَمِنْهُم مَّنْ حَقَّتْ عَلَيْهِ الأَللَةُ ایسے بھی تھے اُن میں جن پر گمراہی مقدر کر دی گئی جن کا مقدر ہو گئی گمراہی۔حقت کا مطلب ہے لازم ہوگئی۔ایسی