خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 544 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 544

خطبات طاہر جلدے 544 خطبه جمعه ۵/اگست ۱۹۸۸ء بیماری میں مبتلا ہو کر فوت ہوئے مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے بار بار اعجازی رنگ میں بیچتے بھی رہے اور ڈاکٹر حیران ہوتے تھے کہ کس طرح اتنا لمبا وقت مل گیا۔ان کے نزدیک ان کو بہت پہلے فوت ہو جانا چاہئے تھا۔بہر حال بہت نیک انسان خدمت دین کرنے والے اور تبلیغ کرنے والے، بچوں کی بہت اچھی تربیت کی ہے انہوں نے میرا تو ارادہ تھا کہ انشاءاللہ تعالی نماز جنازہ بعد میں پڑھاؤں گا لیکن فوری طور پر اُس وقت چونکہ اعلان کیا تھا اس لیے میں رُک گیا۔ان کی بیگم صاحبہ نے شکوے کا خط تو اُس طرح نہیں لکھا لیکن صرف یہ کہ اچھا ڈاکٹر ساجد کا جنازہ آپ نہیں پڑھائیں گے، بس ایک فقرہ تھا۔اس سے زیادہ اور کیا شکوہ ہوسکتا تھا۔ایک ہمارے عزیز بھائی کلیم اللہ شاہ مہر آپا کے بھائی اور میرے کزن ماموں زاد، یہ کینسر کے مریض تھے اور ایسا کینسر تھا جوٹر مینل کینسر کہلاتا ہے۔وہ دو مہینے ہوئے یہاں تشریف لائے تھے اور اُس وقت ڈاکٹروں نے کہہ دیا تھا کہ گنتی کے چند دن ہیں۔اس لیے باوجود یہ کہنے کہ ہم نے کہا کہ جو انسانی تدبیر ہے وہ اختیار کرنی چاہئے۔تو ان کے واپس جانے کے بعد کچھ عرصے کے بعد پہلے تو اطلاع یہی تھی کہ طبیعت کچھ سنبھل رہی ہے لیکن اچانک بیماری نے شدت اختیار کی اور خدا کے حضور حاضر ہوئے۔سید برکات احمد صاحب معروف شخصیت ہیں ہندوستان کی علمی لحاظ سے بھی اور کئی پہلؤوں سے۔جماعت کے بڑے مخلص فدائی کارکن تھے۔ان کو بھی گزشتہ چند سال سے ایسا کینسر تھا جس کے متعلق ڈاکٹروں کا یہ خیال تھا کہ آج سے بہت پہلے فوت ہو جانا چاہئے تھا۔جب ہندوستان میں تھے تو مجھے اُس وقت انہوں نے لکھا کہ ڈاکٹر کہتے ہیں کہ چند مہینے کی بات ہے اس سے زیادہ نہیں ہو سکتا۔ان کو میں نے دعا کی طرف بھی توجہ دلائی اور یہی کہا کہ ڈاکٹروں کی باتیں نہ مانیں، اللہ کی مرضی ہے اور دعا میں بھی کرتا ہوں آپ بھی کریں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے فضل کیا ان کی بہن کا بعد میں مجھے خط آیا کہ حیرت ہے کس طرح یہ بچ گئے ہیں اور صرف بچ ہی نہیں گے بلکہ کام بھی شروع کر دیا ہے اور پھر کام بھی ایسا کیا کہ مذہب کے نام پر خون“ کتاب کا بیماری میں ترجمہ شروع کیا اور وہ مکمل ہو گیا اللہ کے فضل سے۔پھر اُس کی نظر ثانی کی ، پھر مجھے کہا کہ میری خواہش ہے کہ میں دیکھ لوں کہ یہ پریس میں جا چکی ہے کتاب۔پھر میں نے ان کو اطلاع دی کہ پریس میں جا بھی چکی ہے اور طباعت کے مراحل