خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 48
خطبات طاہر جلدے 48 خطبه جمعه ۱۵/جنوری ۱۹۸۸ء ضرورتیں پوری ہو جائیں گی۔اس میں ایک دلچسپ بات جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ چند دن ہوئے مجھے جرمنی سے ایک سکھ دوست کا فون آیا۔انہوں نے کہا کہ پنجاب سے شائع ہونے والے ایک پنجابی رسالے میں جو گورکھی زبان میں لکھا جاتا ہے۔میں نے جماعت پر مظالم کا ذکر پڑھا ہے اور مجھے یہ پڑھ کر بہت تکلیف ہوئی کہ ظالم مساجد کو آگ لگا رہے ہیں، خدا کے ذکر کے گھروں کو آگ لگا رہے ہیں اور یہ بھی پتا چلا ہے کہ ہالینڈ میں بھی مسجد کو نقصان پہنچایا گیا ہے۔اس نے کہا کہ میں جماعت میں شامل تو نہیں مگر مجھے خدا سے محبت بہت ہے اور میں برداشت نہیں کر سکتا کہ اس طرح خدا کے گھروں کو دنیا میں خدا کے بندے کہلانے والے آگ لگا ئیں۔آپ مجھے ضرور موقع دیں کہ میں بھی ایسی جماعت کے لئے کچھ قربانی دوں۔میں نے انھیں بڑے پیار سے سمجھایا اور شکر یہ ادا کیا کہ ٹھیک ہے ہم اللہ کے فضل سے خود کفیل ہیں، قربانی دے رہے ہیں ، خدا انتظام کر رہا ہے۔انہوں نے فون پر ہی ضد شروع کر دی کہ میں نے ضرور کچھ دینا ہے آپ نہ کر نہیں سکتے۔چنانچہ میں نے اسی وقت اپنے مبلغ کو فون کیا کہ یہ انکا نمبر ہے ان سے رابطہ کریں۔آج ہی ان کا خط ملا ہے کہ انہوں نے ایک ہزار پونڈ ہالینڈ کی مسجد کی تعمیر نو کیلئے پیش کیا ہے۔تو یہ خدا کی عجیب تحریکات ہیں جو خود اپنے فرشتوں کے ذریعہ دلوں میں وہ نازل فرماتا رہتا ہے اور نصرت عطا ہوتی چلی جاتی ہے ہے۔سید نا بلال فنڈ کے متعلق بھی یہی مضمون ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت عظیم الشان قربانی کی توفیق ملی جماعت کو اس کے مزید پھل یہ مل رہے ہیں کہ اسی رقم سے جو پاکستان ہندوستان سے باہر سے ملی تھی۔اس سے سو زبانوں میں قرآن کریم کے نمونہ کی آیات جو قریباً ۱/۲۰ قرآن کریم پر مشتمل ہوں گی شائع ہونا شروع ہو گئی ہیں اور اب تک خدا کے فضل سے ایک سو آٹھ زبانوں میں تراجم مکمل ہو چکے ہیں۔کچھ چھپ چکے ہیں کچھ اس وقت پریس میں ہیں۔اس کے علاوہ مزیدمل گئے کئی لوگ نئی زبانوں میں ترجمہ کرنے والے ہیں تو وہ بھی جاری ہے اس لئے امید ہے کہ آئندہ سوسال پورے ہونے سے پہلے ہم انشاء اللہ سو کی بجائے ایک سو پندرہ ہیں زبانوں تک قرآن کریم کے نمونے دنیا کے سامنے پیش کر سکیں گے۔اس میں سیدنا بلال فنڈ کو بہت بڑا دخل ہے۔سارے کے سارے تراجم تو سیدنا بلال فنڈ سے پورے نہیں کئے جائیں گے کیونکہ دوست اپنے طور پر رقمیں بھیج دیتے ہیں اور بہت سی زبانوں میں خدا تعالیٰ نے وہیں کے لوگ ایسے پیدا کر دیئے ہیں جو کہتے ہیں یہ