خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 522 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 522

خطبات طاہر جلدے 522 خطبہ جمعہ ۲۹؍ جولائی ۱۹۸۸ء رہے۔ہم نے فیصلے کیے ہیں کہ ہم پوری کوشش کریں گے مگر جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے مدد نہ آئے اُس وقت تک انسان کے ارادوں کی کوئی قیمت نہیں ہوا کرتی۔تو ایسی برکتیں بھی ہیں جو جلسے میں ملتی ہیں۔لیکن چند دن باقی نہیں رہا کرتیں بلکہ زندگی بھر ساتھ دیتی ہیں ، زندگی کے بعد بھی ساتھ دیتی ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے الہی منشاء کے مطابق یہ جلسے کا نظام جاری فرمایا اور بہت ہی دعائیں کیں جلسے کے بابرکت ہونے کے لیے اور اُس دن سے آج تک ہم بحیثیت جماعت یہ مشاہدہ کر رہے ہیں کہ جلسہ جس میں تمام احمدی محض اللہ سفر کرتے ہیں یا للہ مسافروں کا انتظار کرتے ہیں ، خواہ وہ مقیم ہوں جو مہمانوں کی راہ دیکھ رہے ہوں یا مہمان ہوں جو دور دور سے رخت سفر باندھ کے آئے ہوں دونوں اپنے اپنے رنگ میں اللہ کے فضل کے ساتھ اس جلسے سے برکتیں پاتے ہیں۔اس جلسے پر خصوصیت کے ساتھ صد سالہ جو بلی کے پروگرام پر بھی غور ہوئے اور جلسے کے معاًبعد ایک بہت ہی دلچسپ اور پُر لطف اور مفید مجلس اُن نمائندگان کے ساتھ ، قائم مقام یا ایڈیشنل صدرصد سالہ جو بلی پلانگ کے ساتھ اُن کی ہوئی۔جس میں کئی گھنٹے تک سب نے مل کر اپنے اپنے ملک کے مختصر حالات بھی پیش کیے، کچھ نئی تجاویز پیش کیں، پرانی تجاویز پر غور و خوض ہوا۔پس یہ زائد چیز ہے جو اس جلسہ میں اس دفعہ پیدا ہوئی اور اس کی طرف میں خصوصیت سے احباب کو متوجہ کرنا چاہتا ہوں۔صد سالہ جوبلی کے تشکر کا سال ، جوبلی کا لفظ تو یونہی محاورۃ ساتھ لگا ہوا ہے دراصل تو صدساله تشکر صرف کہنا چاہئے ،صد سالہ تشکر کا سال آنے میں اب سال سے تھوڑا وقت رہ گیا ہے اور غالباً دس مہینے کے قریب یا ۱۰۹ مہینے کے قریب کا عرصہ ہے جو باقی ہے۔اس ضمن میں بہت سے منصوبے ہیں جو تکمیل کو پہنچ گئے اور جن پر عمل درآمد بھی ایک مدت سے شروع ہے۔لیکن بہت سے ایسے منصوبے بھی ہیں جن پر عمل درآمد ا بھی شروع نہیں ہوا، بہت سے ایسے کام ہیں جو جماعتوں میں کرنے والے ہیں۔اُن میں سے کچھ تو بعض جماعتوں نے شروع کیے ، کچھ ابھی تک نہیں ہوئے کیونکہ مجھے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جہاں تک منصوبوں کے عمل درآمد میں روپے پیسے کی ضرورت ہے۔اُس کا بجٹ مرکز سے منظور ہوتا ہے اور بہت سی جماعتوں نے ابھی تک ، یعنی بہت سے ملکوں کی