خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 511
خطبات طاہر جلدے 511 خطبہ جمعہ ۲۲؍ جولائی ۱۹۸۸ء اس کام کو جب تک بچپن سے آپ شروع نہیں کریں گے یہ کام ثمر دار ثابت نہیں ہوگا، اس محنت کا ویسا پھل آپ کو نہیں مل سکتا جیسی آپ توقع رکھتے ہیں۔یہ وہ دوسری نصیحت ہے جو حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ہمیں فرمائی جب آپ نے یہ فرمایا کہ بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے دائیں کان میں اذان دو جب آپ نے یہ فرمایا کہ جب بچہ پیدا ہوتا ہے تو اس کے بائیں کان میں تکبیر کہو (الجامع لشعب الایمان باب فی حقوق الاولاد والاصليین حدیث نمبر: ۸۲۵۴) تو در حقیقت انسانی فطرت کا یہ گہرا راز ہمیں سمجھا دیا کہ تربیت کے لئے کسی خاص عمر کا انتظار نہیں کیا جاتا۔جونہی بچہ ماں کے پیٹ سے باہر آتا ہے وہ تمہاری ذمہ داری بن جاتا ہے اور اس دن سے اس کی تربیت کا آغاز ہو جاتا ہے۔اس مضمون پر اس سے پہلے بھی میں روشنی ڈال چکا ہوں کہ گزشتہ زمانوں میں تو انسان ایک جاہل انسان یہ اعتراض کر سکتا تھا کہ یہ ارشاد بے معنی اور مہمل ہے کیونکہ پہلے دن کے بچے کو تو کچھ سمجھ نہیں آتا وہ تو نہ زبان سمجھتا ہے نہ اشارے جانتا ہے اپنے ماں باپ تک کو پہچان نہیں سکتا اس کے کان میں اذان دینے کا کیا مطلب ہے۔مگر آج کی تحقیق نے بڑی وضاحت کے ساتھ یہ معاملہ کھول دیا ہے اور اس عقدے کو حل کر دیا ہے کہ بچہ نہ صرف یہ کہ ماں کے پیٹ سے باہر آنے پر فوری طور پر اثر قبول کرنے لگ جاتا ہے بلکہ اب تو سائنس دان یہ بات بھی دریافت کر چکے ہیں کہ ماں کے پیٹ میں پیدائش سے پہلے بھی وہ بیرونی دنیا کے اثرات کو قبول کرتا ہے۔اس پر غور کرتے ہوئے میری توجہ ایک اور آنحضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نصیحت کی طرف مبذول ہوئی ہمیں آپ نے ارشاد فرمایا کہ جب میاں بیوی تعلقات قائم کرتے ہیں تو اُس وقت بھی دعا کیا کرو، اُس وقت بھی شیطان کی لمس سے محفوظ رہنے کی دعا کیا کرو اور خدا سے پناہ مانگا کرو (مسلم کتاب النکاح حدیث نمبر : ۳۵۹) تو معلوم ہوا کہ پیدائش کے بعد تربیت کا ایک خاص مرحلہ شروع ہوتا ہے لیکن دراصل پیدائش سے پہلے بھی تربیت کا ایک مرحلہ شروع ہو جاتا ہے اور بچہ بننے کے وقت اُس کے آغاز کے وقت یا اُس کے آغاز کے امکان کے وقت بھی انسان کو اپنی آئندہ نسلوں کی تربیت کی طرف متوجہ ہونا چاہئے اور خدا تعالیٰ سے استدعا کرنی چاہئے۔پھر مزید میں نے غور کیا تو معلوم ہوا کہ یہ مضمون تو اس سے بھی زیادہ گہرا اور اس سے بھی زیادہ وسیع تر ہے انبیاء کی تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ وہ مدتوں بعد پیدا ہونے والی نسلوں کے لئے بھی دعا کیا کرتے تھے جن کا کوئی وجود نہیں تھا۔وہ شہر مکہ جو آج تمام دنیا کے لئے مرجع خلائق ہے جب اس کے