خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 483
خطبات طاہر جلدے 483 خطبه جمعه ۵ار جولائی ۱۹۸۸ء جلسہ سالانہ برطانیہ کے مہمانوں اور میز بانوں کو نصائح (خطبہ جمعہ فرموده ۱۵ / جولائی ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا: احباب جماعت شاید یہ توقع رکھتے ہوں کہ میں اس خطبے میں بھی مباہلے کے اثرات سے متعلق کچھ گفتگو کروں گا۔اگر چہ اس میں کچھ شک نہیں کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ایک انتہائی روشن اور دشمن کو ذلیل ورسوا کر دینے والا نشان ظاہر ہوا ہے۔جس سے تمام دنیا میں جماعت مومنین کے سینے خدا کی رضا سے لبالب بھر گئے ہیں لیکن یہ مضمون ابھی تشنہ رہے گا اگر آج میں اس موضوع پر گفتگو کروں کیونکہ مولویوں کی بوکھلاہٹ کے بہت سے قصے تو پہنچ چکے ہیں کچھ ابھی آنے باقی ہیں۔کچھ اس مباہلے سے گریز کے لئے جو انہوں نے ہاتھ پاؤں مارنے ہیں ان کے آثار ظاہر ہو چکے ہیں اور کچھ ابھی باقی ہیں اور خود اس معمے سے متعلق بھی ابھی کچھ اور پردے اٹھنے والے ہیں۔اس لئے انشاء اللہ تعالیٰ اس موضوع پر میں جلسے کے موقع پر کسی وقت خطاب کروں گا۔اس وقت حسب سابق روایات سلسلہ کے مطابق جلسہ سالانہ سے متعلق میں کچھ امور نصیحیہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔جلسہ بہت قریب آ گیا ہے اب یہ جمعہ وہ جلسے سے پہلے کا آخری جمعہ ہے اور مہمانوں اور میز بانوں دونوں کو کچھ ان کے فرائض، کچھ حقوق ، کچھ ذمہ داریاں ، کچھ اعلیٰ اخلاق کی باتیں یاد کرائی جاتی ہیں۔سب سے پہلے تو مہمانوں سے متعلق میں آنے والے مہمانوں کو دوبارہ یاد دلاتا ہوں کہ جہاں تک ان کے رشتے داروں کا تعلق ہے، ایسے قریبی مراسم کا تعلق ہے جو رشتہ داری کا ہی رنگ اختیار کر جاتے ہیں وہ جانیں اور ان کے میزبان جانیں اپنے سابقہ تعلقات کے مطابق جس طرح