خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 481 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 481

خطبات طاہر جلدے 481 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۸ء مقدمے قائم کئے جاتے ہیں گلیوں میں گھسیٹا جاتا ہے، مارا جاتا ہے، اس کے کپڑے پھاڑ دیے جاتے ہیں، جو تیاں تک ماری جاتی ہیں عوام الناس کے سامنے اور ہر قسم کے عذاب دیتے ہوئے جیلوں میں ٹھونسا جاتا ہے اور مولوی نعرے لگاتے ہوئے گھر آتے ہیں کہ ہم نے کلمہ پڑھنے والے کا منہ بند کر دیا۔دوسری طرف وہی چوہڑے عیسائی آج بھی پاکستان میں رسول اللہ ﷺ کی ذات پر حملے کر رہے ہیں۔ان کی پہچان یہ ہے یہاں تو لفظ مسیح تو آپ کو نظر نہیں آئے گا۔مگر وہاں پر کالے عیسائی کے سامنے لفظ مسیح لکھا ہوا نظر آجاتا ہے۔کوئی برکت مسیح ہے کوئی فلاں مسیح، کوئی ایرا مسیح، کوئی غیر اسیح اور ہر ایرا غیر حکومت پاکستان میں جو اسلام کے نام پر قائم ہوئی اور آج اسلام کی علمبردار بنی ہوئی ہے۔آنحضرت ﷺ کے آباؤ اجداد پر حملے کئے جاتے ہیں اور تضحیک کی جاتی ہے آپ کو جھوٹا اور کا ذب ثابت کیا جاتا ہے۔کتابیں لکھی جاتی ہیں اور کسی مولوی کو کوئی غیرت نہیں آتی۔ابھی ایک انصار اللہ کے رسالے میں جماعت احمدیہ کی طرف سے اسی ذلیل کتاب کا جواب شائع ہوا ہے بڑا ہی عمدہ، بڑا ہی مؤثر ہے اور کسی مولوی کو ہوش نہیں۔ان کو اس بات پر دل صلى الله آزاری ہوتی ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ کو کہیں سچا نہ کہہ دے کوئی۔جھوٹا کہنے والے پنپیں، پھیلیں، پھولیں کوئی پرواہ نہیں اس کی۔ان کو اسلام کا درد کہاں سے آ گیا ؟ اس لئے اس فاسد دیوار کو درمیان سے اڑانا پڑے گا۔خدا کی تقدیر ہی اڑ سکتی ہے ہم اور تم اس کو نہیں اڑا سکتے۔اس لئے میں نے مجبور ہو کر چیلنج دیا تھا۔عوام کیلئے تو میرا دل آج بھی درد سے بھرا ہوا ہے مجھے ڈر ہے کہ یہ ظالم لوگ ان کو بھی نہ ساتھ لے ڈوبیں۔لیکن دلی تمنا ہے اور جہاں تک میری سوچ کی تدبیریں تھیں وہ میں نے ساری اختیار کیں کہ کسی طرح عوام کو اس سے باہر نکال لوں اور گنتی کے چند رہ جائیں لیکن جب میں نے قرآن کریم کی ان آیات پر نظر کی جو میں نے ان میں سے ایک آپ کے سامنے پڑھ کر سنائی ہے تو میرا دل ہول سے بھر گیا اور پھر یہ ساری باتیں میری آنکھوں کے سامنے آگئیں کہ واقعہ عوام الناس شرارت کو خوابوں سے تعبیر کی دنیا میں اتارا کرتے ہیں، سازشوں سے عمل کی دنیا میں اتارا کرتے ہیں اس لئے وہ سزاوار بنتے ہیں۔جب ایک انسان کسی پتھر کی دیوار کو ننگے پاؤں سے ٹھوکر مارے گا تو دماغ کو تکلیف تو ہوگی لیکن اس وجہ سے کہ پہلے اس پاؤں کو تکلیف ہوتی ہے جو دیوار سے ٹکراتا ہے۔اب نارمل آدمی کے پاؤں کو بھی تکلیف ہوگی اور دماغ کو بھی ہوگی لیکن اگر