خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 478
خطبات طاہر جلدے 478 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۸ء الناس پر رحم کیا جاتا ہے جب نئی سرداری عطا کی جاتی ہے۔جب بھی نے مصلح خدا قوموں کی طرف بھیجا کرتا ہے تو اس کی روح یہ ہے اس کا فلسفہ یہ ہے کہ عوام الناس پر رحم کیا گیا ہے ان کی حالت زار پر رحم کیا گیا ہے ان کو نئے سر عطا کیے گئے ہیں۔لیکن اگر بدن نئے سر کا انکار کردے اور بیمار اور فاسد سر کے ساتھ چمٹا رہنا قبول کر لے یا بضد ہو جائے کہ اس سے رابطہ نہیں تو ڑا جائے گا تو پھر خدا کا تو قصور نہیں۔خدا تعالیٰ نے تو قوم کی اصلاح کیلئے ایک سامان پیدا فرما دیا۔پس ضروری ہے کہ اس فاسد دیوار کو توڑا جائے جو جماعت احمد یہ اور مسلمانوں کے درمیان کھڑی کر دی گئی ہے۔جب تک جماعت احمدیہ کی روحانی لیڈرشپ یہ قوم قبول نہیں کرتی اس کے دن نہیں پھریں گے اور اتنا جھوٹ جماعت احمدیہ کے خلاف بولا گیا ہے کہ ان کو پہچان ہی نہیں رہی کہ سگی ماں کو سوتیلی ماں بنائے ہوئے ہیں اور سوتیلی ماں کو سگی ماں بنائے ہوئے ہیں اور نہیں جانتے کہ ان کے فتنے کی علامتیں ظاہر ہیں ، روشن ہیں اور اسلام سے ان کو کوئی ہمدردی نہیں۔جماعت احمدیہ کا صالح نظام ان کی آنکھوں کے سامنے ہے اور ممتاز ہے۔کسی اور نظام کو اس نظام سے مشابہت نہیں اور پھر بھی نہ دیکھنے والے نہیں دیکھتے۔اب اسلام کے نام پر جو دنیا میں فساد مچائے جارہے ہیں اگر اسلام سے سچی ہمدردی ہو تو جہاں اسلام کی روح پر حملہ ہو رہا ہے وہاں یہ لوگ مستعد ہو کر اس کے مقابلہ کیلئے آگے نکلیں۔جہاں اسلامی تعلیم پر حملہ ہورہا ہو اور اسلامی اعمال پر حملہ ہورہا ہو وہاں ان کے دفاع کیلئے لوگ آگے نکلیں لیکن ایسا کوئی نظام ان کے ہاں قائم ہی نہیں ہے۔مثلاً جس طرح جماعت احمدیہ میں آپ دیکھتے ہیں کہ اگر کسی دور دراز ملک میں کوئی بیہودہ حرکت کرتا ہے احمدی تو فورا وہاں سے آواز پہنچتی ہے مرکز تک کہ فلاں آدمی کو ہم نے شراب میں دھت دیکھا ہے اور اپنے آپ کو احمدی کہتا ہے اور مرکز فوراً حرکت میں آجاتا ہے اور تحقیقات شروع ہوتی ہے اور اس کی اصلاح کی کاروائیاں شروع کی جاتی ہیں۔کوئی عورت بے پردگی میں بے حیائی اختیار کر جائے یا برقع پہنی تھی تو برقع چھوڑ دیا، چادر پہنتی تھی تو چادر اتار پھینکی ، اس کی اولاد بے راہ ہوگئی۔یہ تمام کی تمام باتیں فورا ایک ایسے مرکز میں پہنچتی ہیں جو حساس ہے، جسے ان چیزوں سے تکلیف پہنچتی ہے۔صالح بدن اور صالح دماغ اور صالح دل کا یہ نظام ہوا کرتا ہے۔ایک دور کی انگلی کو بھی کانٹا چھے تو پہلے تکلیف دل اور دماغ میں محسوس ہوتی ہے پھر