خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 476 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 476

خطبات طاہر جلدے 476 خطبہ جمعہ ۱۸ جولائی ۱۹۸۸ء ہیں۔غریبوں کے محلے سے ہی وہ تیلیاں لے کر چلنے والے نکلتے ہیں جو گھروں کو پھونک دیتے ہیں۔غریبوں کے محلوں سے ہی وہ چھرا گھونپنے والے نکلتے ہیں اور اندھا دھند پھر بغیر کسی تمیز کے جوان کے راستے میں آئے اسے مثانے کی کوشش کرتے ہیں۔اس لئے راہنما کا قصور ضرور ہے لیکن جب تک عوام گندے نہ ہو جائیں، جب تک عوام کے دل میلے نہ ہو جائیں اور ان کی سوچیں ٹیڑھی نہ ہو جائیں اور بداعمالی کیلئے تیار اور مستعد نہ ہوں اس وقت تک کوئی قوم کا سردار انہیں بدراہ پر ڈال نہیں سکتا۔چنانچہ قرآن نے اس مضمون کو خوب کھول کر بیان فرمایا تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى کہ تم نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرو۔وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ (المائدہ:۳) اثم اور عدوان پر تعاون نہ کرو یہ قوموں کی زندگی کا راز ہے۔وہ قومیں جن کے عوام اس اصول کو اپنا لیتے ہیں کہ جب ہمیں نیکی کی آواز دی جائے گی تو ہم دوڑتے ہوئے آگے آئیں گے، جب بدی کی طرف بلایا جائے گا تو ہم اپنے قدم روک لیں گے۔ان قوموں کو دنیا میں کوئی تباہ نہیں کر سکتا اور ان کے معاشرے میں یہ بھیا نک واقعات رونما نہیں ہوتے جن کے نقشے ہم آج پاکستان میں دیکھ رہے ہیں۔اس لئے قرآن کریم کی بنیادی تعلیم کو بھلانے کے نتیجہ میں عوام سزاوار بنتے ہیں تو خدا سزا دیتا ہے اور محض یہ ایک رومانی بات ہے، جذباتی بات ہے کہ برق گرتی ہے تو بیچارے مسلمانوں پر غریب مارا جاتا ہے۔مارا تو جاتا ہے پر غریب کے ہاتھوں مارا جا تا ہے اور بالکل برعکس صورت پیدا ہو جاتی ہے اس مضمون سے جو ابھی اس آیت کا مضمون آپ کے سامنے پیش کیا ہے۔تَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى قوم سے اٹھ جاتا ہے۔وَلَا تَعَاوَنُوا کالا نکل جاتا ہے اور تعاونوا علی الاثم والعدوان باقی رہ جاتا ہے۔چنانچہ یہ منظر آپ کے سامنے ہے گیارہ سال ہو گئے ہیں قوم کو نمازوں کی طرف بلاتے ہوئے ، قوم کو رشوت سے روکتے ہوئے، قوم کو ہر قسم کی بدیوں سے اسلام کے نام پر منع کرتے ہوئے خواہ دل سے کہا گیا یا زبان سے کہا گیا، کہا ضرور گیا اور بار بار کہا گیا لیکن ساتھ ساتھ یہ بھی تسلیم ہے کہنے والوں کو کہ مسلسل قوم بدی اثم اور عدوان میں آگے بڑھتی چلی جارہی ہے۔مولوی کی طاقت کا راز اس بات میں ہے کہ وہ بدی کی طرف قوم کو بلائے جس وقت وہ بدی کی طرف بلانا چھوڑ دیتا ہے مولوی کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔اگر مولوی گھروں کو جلانے