خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 434
خطبات طاہر جلدے 434 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۸ء نہیں مگر اکثر جگہ غیروں کے مقابل پر اونچا ہے۔بعض ایسے علاقے ہیں جہاں شدت کے ساتھ روایتاً نمازوں کے ظاہر پر ختی کی جاتی ہے اور انکے مقابل پر افسوس کی بات یہ ہے کہ بعض دوسرے علاقوں کے احمدی اپنی روایت ستی کی وجہ سے نمازوں کی طرف اتنی توجہ نہیں دیتے۔اس لئے میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ دنیا میں ہر جگہ احمدی کی نماز کا معیار غیر احمدی کے نماز کے معیار سے اونچا ہے۔اگر باطنی معیار اونچا ہو بھی تو وہ اللہ بہتر جانتا ہے لیکن ظاہری معیار کے لحاظ سے ہر جگہ اونچا نہیں۔اسی طرح ایک دفعہ میں نے پہلے بھی توجہ دلائی تھی کہ بعض فرقوں میں بھی نماز کا معیار بعض احمدیوں سے جو بعض خاص علاقوں میں بستے ہیں یقیناً اونچا ہے۔مثلاً میمن ہیں اور اسی قسم کی بعض قومیں ہیں جو نمازوں پر بہت سختی کرتی ہیں۔وہابی فرقہ ہے وہ نمازوں پر بہت سختی کرتا ہے۔سعودی عرب میں نماز کے ظاہر کے قیام کا جہاں تک تعلق ہے وہ معیار کافی بلند ہے۔اگر چہ میں یہ بھی جانتا ہوں کہ ظاہر کچھ چیز نہیں لیکن یہ کہنا کہ باطن ہے ظاہر نہیں یہ بھی بالکل جھوٹ ہے۔ظاہر ہو اور باطن نہ ہو یہ تو تسلیم کیا جاسکتا ہے لیکن یہ قابل تسلیم نہیں کہ تمہارا ظاہر نہیں ہے لیکن باطن ہے یہ جھوٹ ہے اس لئے ہر احمدی کو اپنے ظاہر کو بھی قائم کرنا ہوگا اور اسلام عبادت کے معاملہ میں جو تقاضے احمدی سے کرتا ہے انہیں پورا کرنا ہوگا اور تمام دنیا میں عبادت کے معیار کو بڑھانا ہوگا۔اس معاملہ پر غور کرتے ہوئے مجھے ضمناً یہ خیال آیا کہ اس سے بھی ایک قسم کے بیچ اور جھوٹ میں واضح تمیز ہو جائیگی کہ سچا کون ہے اور جھوٹا کون ہے کیونکہ عجیب اتفاق ہے یا تقدیر ہے کہ انہیں دنوں میں صدر پاکستان ضیاء الحق صاحب نے نمازوں کے مضموں کو اٹھایا ہے اور اپنی تقاریر میں یہ دعویٰ کیا ہے کہ اب ہم سزائیں دے کر اور جبر انمازیں پڑھائیں گے اور باقاعدہ حکم نامے جاری ہوئے ہیں دفاتر میں کہ با قاعدہ نمازوں کی حاضری لگائی جائے اور سزائیں دی جائیں ان لوگوں کو جو نمازیں نہیں پڑھتے۔تو دو طرح کے نمازوں کی طرف بلانے والے آج دنیا کے سامنے کھڑے ہیں۔ایک وہ ہے جن کو ایک ملک میں بھی کوئی جبر اور قوت کی دسترس حاصل نہیں۔کسی ایک ملک کے ایک حصہ پر بھی کوئی حکومت حاصل نہیں اور اس کے ماننے والوں اور اسکے پیچھے چلنے والوں کی جماعت دنیا کی ۱۴ اممالک سے زائد کے علاقوں میں پھیلی پڑی ہے اور محض اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے انکے عہد وفا پر اعتماد کرتے ہوئے وہ کامل یقین کے ساتھ یہ جانتا ہے کہ جب وہ یہ آواز بلند کرے گا خدا کے نام پر کہ