خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 433
خطبات طاہر جلدے 433 خطبہ جمعہ ۷ ارجون ۱۹۸۸ء ہیں اس کا مضمون مجھے یاد ہے اگر چہ الفاظ بالکل بعینہ مجھے یاد نہیں ہو نگے مثلاً ایک موقع پر میں نے بڑی زور سے جماعت کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر تم یہ خیال کرتے ہو کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو ماننے کی وجہ سے تم آسمان پر نجات یافتہ لکھے جاؤ گے تو یہ خیال غلط ہے جب تک زمین پر تم خدا کی عبادت کو قائم نہیں کرو گے میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ آسمان پر بھی تم نجات یافتہ نہیں لکھے جاؤ گے اسلئے زمین پر عبادتوں کو قائم کرو۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے آنے کا مقصد یہ تھا کہ خدا کی عبادت کو از سر نو قائم کریں۔پس اگر تم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے سچے خادم ہو، اگر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے ساتھ کچی وفا کرتے ہو تو زمین پر اس خدا کی عبادت کو قائم کرو جو آسمان پر ہے۔پھر میں تمہیں یقین دلاتا ہوں کہ تم آسمان پر خدا کے عبادت گزار بندوں میں لکھے جاؤ گے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی نجات یافتہ جماعت میں داخل ہو گے۔بالکل اسی مضمون کو شاید چند الفاظ کی تبدیلی سے میں نے خواب میں اپنے آپ کو جماعت کے سامنے پیش کرتے ہوئے دیکھا اور ایک لمبا خطبہ تھا پورے الفاظ تو مجھے یاد نہیں لیکن یہ مجھے معلوم ہے مسلسل عبادت کے متعلق تھا۔چنانچہ بعد میں میں نے جب غور کیا تو علم ہوا کہ اسکا تو مباہلہ سے گہرا تعلق ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی سچائی کا معاملہ جماعت کی سچائی کے معاملہ کے ساتھ وابستہ ہے۔اگر جماعت جھوٹی ہو جائے تو تب بھی خدا مباہلہ میں کوئی کھلا کھلا نشان نہیں ظاہر فرمائے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام نے مباہلہ کے چیلنج دیئے۔وہ جنہوں نے قبول کیے وہ عین خدا کی منشاء کے مطابق ہلاک ہوئے اور عبرت کا نشانہ بنے۔یہ دور تھا جو اپنے وقت میں بہار دکھا کر چلا گیا۔یہ دور اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہ سکتا ہے اگر اپنے اعمال میں وہ نقدس پیدا کرو ، وہ پاکیزگی پیدا کرو۔اگر خدا سے تعلق میں وہ روابط پیدا کرو جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پیدا کئے اور جماعت میں پیدا کرنا چاہتے تھے اور اس تقدس اور ان روابط کی جان نماز ہے۔اگر نماز کے ذریعہ خدا سے تعلق قائم نہ رکھا جائے تو انسان کی کچھ بھی حیثیت اسکی نظر میں نہیں رہتی اور مباہلہ تفریق کرنے کیلئے ہوتا ہے، مباہلہ تمیز کرنے کیلئے ہوتا ہے۔اگر کوئی جماعت خدا کی عبادت کو قائم نہیں کر رہی تو اسکی خاطر غیروں کے ساتھ کوئی تفریق نہیں کی جائینگی۔میں جانتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ میں عبادت کا معیار ہر جگہ، ہر جگہ تو