خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 424
خطبات طاہر جلدے 424 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۸ء سر نو اس اعلان کے ذریعہ سب الزامات کی توثیق کرتے ہیں اور ان کا اعادہ کرتے ہیں اور خصوصیت کے ساتھ یہ اعلان کرتے ہیں کہ یہ جماعت کلمہ توحید کی قائل نہیں بلکہ مرزا غلام احمد کو خدا یا خدا کا شریک یقین کرتی ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں اور اس دعوئی میں سچے ہیں کہ یہ جماعت مرزا غلام احمد قادیانی کو حضرت محمد مصطفی ﷺ کا غلام نہیں بلکہ ان سے افضل سمجھتی ہے اور یقین رکھتے ہیں کہ یہ جماعت محمد رسول اللہ ﷺ کی ادنی غلام اور عاشق نہیں بلکہ آپ کی مخالف اور معاند ہے اور عزت کرنے والی نہیں بلکہ ہتک کرنے والی جماعت ہے۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ جماعت جو یہ دعوی کرتی ہے کہ ہم محمد رسول اللہ ﷺ کا کلمہ پڑھتے ہیں تو ہر گز محمد رسول اللہ کا کلمہ نہیں پڑھتی بلکہ اپنے دل میں مرزا غلام احمد قادیانی مراد لیتی ہے اور اسی کی رسالت اور صداقت کی شہادت دیتی ہے۔ہم یقین رکھتے ہیں کہ جماعت اسلام کی دشمن اور قوم اور وطن کی غدار ہے اور بنی نوع انسان سے عداوت رکھنے والی ہے اور امن عالم کو تباہ کرنے والی ہے اور مفسد اور شریر جماعت ہے جو نصاریٰ کی بھی ایجنٹ ہے اور یہود کی بھی ہے اور ہنود کی بھی۔ہمیشہ اسلام دشمن اور وطن دشمن سرگرمیوں میں مصروف رہتی ہے۔پاکستان میں جتنے بڑے بڑے فساد اور دھماکے ہوئے ہیں ان سب کی یا ان میں سے اکثر کی ذمہ داری اس جماعت پر عائد ہوتی ہے اور اس کا دین وہ دین اسلام نہیں جو محمدرسول اللہ ﷺ کا دین تھا۔اس کی کتاب وہ قرآن کریم نہیں جو محمد رسول اللہ ﷺ پر نازل ہوئی۔اس کی شریعت وہ شریعت نہیں جو شریعت اسلامیہ ہے۔اس کی عبادت وہ عبادت نہیں جس کی تعلیم قرآن اور سنت نے دی۔اس کا ملائکہ کتب اور رسولوں اور یوم آخرت کا تصور اس سے بالکل جدا ہے جو قرآن اور محمد رسول صلى الله اللہ ﷺ نے دنیا کے سامنے پیش کیا۔یہ جماعت بنی نوع انسان کو اور خصوصیت سے امت مسلمہ کو دھوکا اور فریب دینے والی جماعت ہے اور اس جماعت کو مسلمان کہلانے کے حق سے محروم کرنا ، مرتد اور واجب القتل قرار دینا، اس کو اسلامی طرز پر عبادت کرنے سے روکنا۔اس جماعت کو حج بیت اللہ سے منع کرنا، اس جماعت کی عبادت گاہوں کو مسجد قرار دینا خلاف تعلیم اسلام سمجھنا اور ان کی عبادت گاہوں کو جو مسجدوں کی طرز پر بنائی گئی ہیں مہندم اور مسمار کردینا اور ان کے خون کو مباح قرار دینا اور انکی جائیدادوں کو لوٹنے اور ان کے گھروں کو جلانے کی تعلیم دینا اور انہیں دین اسلام اور وطن کا ناسور قرار دینا اور اسے اکھاڑ پھینک دینے اور ملیا میٹ کر دینے کی تلقین کرنا عین دین اسلام کے تقاضوں الله