خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 417
خطبات طاہر جلدے 417 خطبه جمعه ۱۰/جون ۱۹۸۸ء فرماتے ہیں مرزا طاہر احمد بین الاقوامی غنڈہ ہے۔یہ اس لئے کہا گیا ہے کہ تا کہ بین الاقوامی پولیس کے ذریعہ اسے پکڑ کر بلوایا جائے۔مرزا طاہر احمد اسلم قریشی کا اصلی قاتل ہے۔اسلم قریشی کو قادیانیوں نے سندھ میں لے جا کر شہید کیا ہے۔پولیس کو بھی بتا دو کہاں ہے وہ اور کس جگہ شہید کیا گیا ہے اخباروں میں شائع کرتے ہو اور حکومت کو نہیں بتاتے اور حکومت کو بھی پتا نہیں کیا ہو گیا ہے بیچاری کو کہ واضح خبروں کے باوجود ان کا تتبع نہیں کرتی۔آگے لکھتے ہیں لندن کی ایک خبر آپ سب کے لئے دلچسپی کا موجب ہوگی۔قادیانیوں نے مرزا طاہر کو قیدی بنا دیا ہے۔اُس سے ملاقات پر سخت پابندی ہے اگر کوئی شخص ملاقات کے لئے جاتا ہے تو اس کو براہ راست ملاقات کی اجازت نہیں ہے بلکہ مرزا طاہر کے کمرے اور ملاقاتیوں کے کمرے میں ویڈیو کیمرے نصب ہیں، ملاقاتی جس وقت کمرے میں داخل ہوتا ہے تو فلم چل پڑتی ہے اور مرزا طاہر اس کی تمام حرکات دیکھتا رہتا ہے۔تھوڑی دیر بعد سکرین پر نمودار ہو کر اسے درشن دیتا ہے۔سوال و جواب فلم ہی کے ذریعہ ہوتے ہیں۔مرزا طاہر قیدی سے بدتر زندگی گزار رہا ہے ختم نبوت۔ان کو رحم آیا تو مجھ پر یہ دیکھ لیں ، ان کے رحم سے تو بہ اللہ رحم کرے اس شخص پر جس پر اس قسم کے رحم کرتے ہیں۔میرے ملک سے نکلنے کا واقعہ لکھتے ہوئے نوائے وقت نے مولانا مختار احمدنعیمی صاحب نے یہ خبر شائع کی کہ مرزا طاہر فرضی نام اور فرضی پاسپورٹ کے ذریعہ بمع اہل وعیال ملک سے فرار ہونے پر مجبور ہو گیا۔پھر لکھتے ہیں مولانا طاہر محمود صاحب فیصل آبادی مرزا طاہر احمد کی لندن میں مقیم روسی سفیر کے ساتھ طویل ملاقات ہوئی انہوں نے کہار بوہ میں بھاری تعداد میں روسی ساخت اسلحہ موجود ہے۔حالیہ ملاقات میں آئندہ کا لائحہ عمل مرتب کیا گیا ہے۔جو اسلحہ ہے وہ تو پرانی ملاقاتوں کا نتیجہ ہے۔یہ آئندہ کے لئے سوچا جارہا ہے۔ربوہ میں حال ہی میں روسی اسلحہ کی ستر پیٹیاں لائی گئیں۔یہا کذب الممکذبین مولا نا منظور احمد چنیوٹی کا بیان ہے۔قادیانی جماعت اور روس میں خفیہ مذاکرات کے ذریعہ تعلقات قائم ہو چکے ہیں۔یہ لولاک فیصل آباد کی خبر ہے۔ان سب باتوں کے نتیجہ میں خدا تعالیٰ کی تقدیر بھی کارفرما ہے اور دن بدن ساری قوم کی حالت بد سے بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے حالات اتنے درد ناک ہو چکے ہیں اور پاکستان کی سوسائٹی میں ہر سطح پر اتنا کھ پھیل چکا ہے کہ ایک ایک پاکستانی اس دکھ سے کراہ رہا ہے، بیزار ہے اور کوئی اس کا