خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 397
خطبات طاہر جلدے 397 خطبه جمعه ۳/ جون ۱۹۸۸ء کر رہے اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر اس چیلنج کو سامنے رکھتے ہوئے کھلے لفظوں میں یہ وضاحت کرتے ہوئے لعنت ڈالنے کی جرات نہیں کر رہے کہ اگر وہ جھوٹے ہیں تو خدا تعالیٰ وہ ساری لعنتیں ان پر جمع کر دے۔اس لئے جن لوگوں کی بد زبانی کے چند نمونے میں آپ کے سامنے رکھنے والا ہوں ان کو بھی اور ان کے تمام ماننے والوں کو بھی اور ان کو بھی جو تکذیب میں پیش پیش ہیں اور حکومت پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو بھی جو تکذیب میں پیش پیش ہیں اور علماء کے طبقے سے تعلق رکھتے ہیں اور ان کو بھی جو تکذیب میں پیش پیش ہیں اور عدلیہ سے تعلق رکھتے ہیں ان کو بھی جو تکذیب میں پیش پیش ہیں اور سیاست سے تعلق رکھتے ہیں ان کو بھی جو تکذیب میں پیش پیش ہیں اور عوام سے تعلق رکھتے ہیں لیکن کچھ گروہوں کے سربراہ ہیں ان سب کو میں مخاطب کر کے تمام جماعت احمدیہ کی طرف سے مباہلہ کا چیلنج دیتا ہوں اور ان الفاظ میں چیلنج دیتا ہوں جو الفاظ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے میں نے پڑھ کر سنائے ہیں۔جس قسم کی بد زبانیاں اور گستاخیاں کی گئی ہیں ان کے نمونے چند میں آپ کے سامنے رکھتا ہوں تا کہ ان لوگوں کو یاد کراؤں کہ یہ ساری باتیں اپنے مباہلہ میں بیان کریں اور جرأت سے بیان کریں اگر وہ بچے ہیں۔ایک منظور الہی ملک ہے کوئی انہوں نے لکھا کہ مرزا صاحب ( ہفتہ روزہ لولاک سے یہ عبارت لی گئی ہے ) مرزا صاحب کا دعوی ہے کہ وہ خدا ہے خدا کا بیٹا ہے۔لعنت اللہ علی الکاذبین۔میں اور میری ساری جماعت اس بہتان تراشی پر ، اس اعلان کرنے والے اور اس کی تائید میں دیگر علماء کو یہ چیلنج دیتے ہیں کہ یہ جھوٹ ہے، افترا ہے۔ہمارا جواب یہ ہے کہ لعنت اللہ علی الکاذبین۔اگر تم سچے ہو اور خدا کا خوف رکھتے ہو تو مقابل پر تم بھی کہو لعنت اللہ علی الکاذبین۔محمد سجاد خان صاحب ہیں یہ بھی بے باکی میں حد سے بڑھے ہوئے ہیں چہرہ قادیانیت ایک رسالہ ہے اس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو نعوذ باللہ من ذلک ایک پھنیر سانپ کے طور پر پیش کرنے کی بے حیائی کی گئی ہے۔یہ اس کے مصنف ہیں، یہ صاحب۔جمعیت اشاعت توحید والسنتہ نام رکھا ہوا ہے۔انا للہ و انا اليه راجعون توحیدوسنتہ۔یہ اناللہ۔کس کی توحید اور کس کی سنہ۔لکھتے ہیں قادیانی عقیدہ ہے کہ اس زمانے میں آنحضرت ﷺ کی پیروی