خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 388 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 388

خطبات طاہر جلدے 388 خطبه جمعه ۳ / جون ۱۹۸۸ء احباب کو تاکید کی کہ وہ اسے فی الوقت مباہلے کا چیلنج نہ سمجھیں کیونکہ میں اس مضمون کے لئے خطبات کو ذریعہ بناؤں گا اور خطبات کے ذریعے انشاء اللہ ساری دنیا میں جماعت احمدیہ کے چیلنج یعنی مباہلہ کے چیلینج کا اعلان کیا جائے گا۔سب سے پہلے مختصراً میں مباہلہ کی نوعیت سے متعلق کچھ باتیں احباب کے سامنے رکھنی چاہتا ہوں۔اس آیت کا پس منظر یہ ہے یعنی مفسرین جسے شان نزول کہتے ہیں کہ حضرت اقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس نجران کے عیسائیوں کا ایک وفد آیا اور کئی روز تک آپ سے الوہیت صحیح اور آپ کے دعاوی اور خدا کی وحدانیت کے متعلق مباحثہ کرتا رہا۔حضرت اقدس محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قرآن کی تعلیم کی روشنی میں ان کو نہایت موثر جواب دیئے اور منطقی نقطہ نگاہ سے بھی ان کے منہ بند کر دئے اور اس مباحثہ کے دوران بھی بیان کیا جاتا ہے اسی سورۃ کی وہ اولین آیات نازل ہوئیں جن میں مزید دلائل خدا تعالیٰ کی طرف سے حضرت اقدس محمد مصطفی امیہ کو سمجھائے جاتے رہے۔چنانچہ جب مباحثہ دوسروں کی طرف سے کج بحثی اختیار کر گیا اور ایک دلیل جو خوب اچھی طرح واضح طور پر پیش کر دی گئی تھی۔اسے سنے، اسے سمجھنے کے باوجود پھر وہ اپنے لچر اعتراضوں کی تکرار کرتے رہے تو اس وقت خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ آیت نازل ہوئی جس کی میں نے ابھی آپ کے سامنے تلاوت کی ہے۔اس میں خدا تعالیٰ نے حضور اکرم ﷺ کومخاطب کر کے فرمایا فَمَنْ حَاجَكَ فِيهِ مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ پس ان امور میں فِيهِ سے مراد قرآن کریم کی صداقت یا خدا تعالیٰ کی وحدانیت ہے یا دونوں بیک وقت مراد لی جاسکتی ہیں تو جوان امور میں یا اس معاملے میں اب بھی تجھ سے جھگڑا کرے کیونکہ حاجَّكَ جیسا کہ میں نے درس میں بھی کہا بات واضح کی تھی جھگڑے کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور بعض دفعہ اچھے معنوں میں بھی استعمال ہوتا ہے لیکن کم۔تو یہاں چونکہ ضد کرنے والا مباحث مراد ہے اس لئے قرآن کریم کا مطلب یہ ہے کہ وہ شخص اگر محبتوں سے ، دلیل بازیوں سے جس کو دلیل نہیں بلکہ دلیل بازیاں کہا جاتا ہے اور کج بحثیوں سے باز نہ آئے تو اس کو خصوصیت سے اس وقت کے بعد مَا جَاءَكَ مِنَ الْعِلْمِ جبکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تجھے کھلا کھلا علم عطا کر دیا گیا۔یہاں علم سے مراد ایسے دلائل ہیں جو روشن ہوں جو واضح اور قطعی ہوں جنہوں نے معاملہ کھول دیا ہو یعنی ایک دفعہ معاملے کو اس طرح کھول دیا کہ وہ ظن