خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 371
خطبات طاہر جلدے 371 خطبه جمعه ۲۷ رمئی ۱۹۸۸ء پر احمد یوں کی آزادی چھینے والے اقدامات تھے۔لیکن اس ظلم کے سائے میں بہت سے اور مظالم پیدا ہوئے اور ساری فضا کو احمدیوں کے لیے دکھ سے بھر دیا گیا۔چنانچہ احمدیوں کے عام دنیا وی حقوق بھی کلیہ اُن سے چھین لیے گئے۔چند مثالیں میں آپ کے سامنے رکھوں گا جو اعداد وشمار کی صورت میں یہ ظاہر کرتی ہیں کہ واقعہ ان اقدامات کے نتیجے میں احمدیوں کو کن مصیبتوں اور دکھوں میں سے گزرنا پڑا اور گزرنا پڑ رہا ہے لیکن اُن کے بیان سے پہلے اُس عمومی فضا کا ذکر کرنا ضروری ہے جسے اعداد و شمار میں پیش نہیں کیا جا سکتا اور اس کے لیے کوئی ایسے معین ثبوت نہیں ہیں جن کو دنیا کے سامنے رکھا جا سکے لیکن پاکستان کا بچہ بچہ ان باتوں سے واقف ہے۔مثلاً اُن گلیوں سے گزرتے ہوئے جب احمدیوں کو طعن و تشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور سخت دل آزار باتیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف کی جاتی ہیں تو اس کا کونسا ریکارڈ ہے جو دنیا کے سامنے پیش کیا جائے؟ کیسے دنیا کو یہ دکھایا جا سکتا ہے کہ قید ہونے کے مقابل پر اُن احمدیوں کے لیے یہ تکلیف بہت زیادہ دردناک ہے اور بہت زیادہ آزمائش میں ڈالنے والی اور ابتلاء میں ڈالنے والی تکلیف ہے کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے متعلق گلیوں کے لونڈے اور او باش لوگ سخت گندی اور غلیظ زبان استعمال کریں مگر بہر حال اس قسم کی تکلیفیں تو مسلسل جاری ہیں۔بعض جگہوں پر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی تصویر کو سانپ کی شکل میں بنا کر احمدیوں کی دکانوں کے سامنے آویزاں کیا گیا اور باقاعدہ وہاں پہرے لگائے گئے کہ اگر کوئی احمدی اس کو ہٹانے کی کوشش کرے تو اُس کے ہاتھ توڑ دیئے جائیں اور اگر کوئی احتجاج کرے تو اُس کو گھسیٹ کے تھانے میں پہنچا دیا جائے کہ انہوں نے ہماری لگائی ہوئی تصویر کو ہٹا کر ہمارے جذبات کو مجروح کیا ہے اور واقعہ ایسا ہوا۔اس قدر درد ناک فضا پیدا کر دی گئی احمدیوں کے لیے کہ سارے پاکستان میں ہر گھر میں بچے بچے نے درد سے کلبلا نا شروع کر دیا۔چھوٹے چھوٹے بچوں کے مجھے ایسے خط موصول ہو رہے ہیں اور ہوتے رہیں ہیں مسلسل جو یہ برداشت نہیں کر سکتے۔کہتے ہیں کہ کب یہ ظلم کی راتیں ختم ہوں گی ، کب تک ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے خلاف اور سلسلے کے بزرگوں کے خلاف ایسی نا پاک اور گندی زبان سنتے رہیں گے۔یہ ساری باتیں دل آزاری کی تعریف میں نہیں آتیں یعنی پاکستان کی دل آزاری کی تعریف