خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 349 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 349

خطبات طاہر جلدے 349 خطبه جمعه ۲۰ رمئی ۱۹۸۸ء سمجھتا ہوں کہ جماعت کے سامنے کھول کے بیان کرنا ضروری ہے۔امر واقعہ یہ ہے کہ جہاں تک غربت مسکینی اور یتیمی حالت میں لوگوں کی محتاجی کا تعلق ہے یہ ساری چیزیں بلا شبہ غلامی کی طرف لے جانے والی ہیں۔اگر آپ تجزیہ کریں تو معلوم ہو گا کہ در حقیقت غربت کے نتیجے میں نہ انسان کی عزت رہتی ہے نہ غیرت رہتی ہے۔بعض غریب اور مجبور اپنی عزتیں واقعہ بیچتے ہیں اور رزق کی خاطر اور اپنی بقا کی خاطر اپنا سب کچھ داؤ پر لگا دیتے ہیں اور جتنی زیادہ غربت بڑھتی ہے اُتنا ہی دوسرے کی محتاجی بڑھتی چلی جاتی ہے۔اسی لیے اس دنیا میں قومی لحاظ سے بھی Third World Countries جو کہلا رہے ہیں وہ اپنی غربت کی وجہ سے آج بھی بڑی اور ترقی یافتہ قوموں کے غلام ہیں اور یہ وہم ہے کہ وہ آزاد ہو چکے ہیں کیونکہ غربت اور آزادی اکٹھے نہیں رہا کرتے عام دنیا کے حالات میں مگر یہ کہنا کہ قرآن کریم بالکل اسی فلسفے کو بیان کر رہا ہے اور قرآن کریم کے نزدیک مذہبی جد و جہد کا نام اس کے سوا کچھ نہیں۔مذہبی جد وجہد کا خلاصہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ انسان مفلوک الحال قوموں کی اقتصادی بہتری کے لیے کوشش کرے اور غریب انسانوں کی غربت دور کرنے کی کوشش کرے، ہر گز یہ مراد نہیں ہے۔اس لیے میں اس معاملے پر ذرہ تفصیل سے روشنی ڈالوں گا۔قرآن کریم نے یہ نہیں فرمایا کہ غربت اور غلامی ایک ہی چیز کے دو نام ہیں۔یہ فرمایا ہے کہ گردنوں کو آزاد کرانا بنیادی مقصد ہے اور جب تم گردنوں کو آزاد کرانے کی جد وجہد کرو گے یعنی آزادی کی جد وجہد کرو گے، غربت کے خلاف جد وجہد کا ذکر نہیں فرمایا پہلے۔فرمایا گردنوں کو آزاد کرنا یعنی ہر وہ شخص جو کسی بندھن میں جکڑا گیا ہے۔اُس کو آزاد کرانے کی کوشش کرنا یہ ہے اعلیٰ ترقیات کی طرف قدم مارنا ہمشکل راہوں پر قدم رکھنا۔اس ضمن میں یا درکھو کہ غربت کے نتیجے میں بھی غلامی پیدا ہوتی ہے۔یہ ہے مضمون اور اس ضمن میں یاد رکھو کہ مسکین لوگ جو بے سہارا خاک آلودہ سڑکوں پر پڑے ہوتے ہیں وہ بھی ایک قسم کے غلام ہوتے ہیں اگر چہ بظاہر وہ آزاد بھی ہیں کیونکہ اُن کی ساری زندگی اُس مسکینی کی وجہ سے دوسروں کی محتاج ہو جاتی ہے اور اس لیے وہ بھی ایک غلامی ہی کی قسم ہے۔پھر فرمایا یتیمی بھی ایک قسم کی غلامی ہے کیونکہ یتیم اور بے سہارا لوگ پھر مجبور ہو جاتے ہیں دوسروں کے سامنے جھکنے پر اور اُن کی مرضی کے تابع کام کرنے پر خواہ دل چاہے یا نہ چاہے۔پس