خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 338 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 338

خطبات طاہر جلدے 338 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء مقصد ظالمانہ لڑائی ہو رہی ہے۔لکھوکھبا مسلمان دونوں طرف سے مارے گئے ہیں۔لکھوکھا عورتیں یا بیوہ ہوئیں یا بچے یتیم ہوئے۔بہت ہی زیادہ تکلیف ہے جو کسی طرح کنارے پر پہنچنے کا نام ہی نہیں لے رہی۔یعنی بیماری Terminal ہو جائے اگر تو کسی ایک فریق کے اوپر پھر موت کا وقت آجاتا ہے ، معاملہ وہاں ختم ہو جاتا ہے۔مگر یہاں تو ایک جاری رہنے والی مستقل ایک زندگی کا حصہ بیماری بنی ہوئی ہے کسی کو سمجھ نہیں آتی کہ یہ ختم کس طرح ہوگی اور دونوں طرف مسلمان دُکھ اُٹھا رہے ہیں۔جب بھی ان کو ایک دوسرے سے لڑائی کی طرف بلایا جاتا ہے۔یہ لبیک کہتے ہیں۔جب ان کو سمجھایا جاتا ہے کہ بس کرو یہ انکار کر دیتے ہیں۔چنانچہ کئی وفود مسلمان ممالک کے دونوں ممالک کی طرف بھیجے گئے اور مسلمان بھائی تھے اپنے انہوں نے بڑی نیک نیتی سے تحریکیں کیں کہ اب ختم کرو اس قصے کو ، بہت ظلم ہو چکے اب کسی طرح سمجھوتے کی کوئی بات کرو تو دونوں ممالک نے اُس کا انکار کیا اور شرطیں اس قسم کی لگاتے ہیں جو دوسرا ملک قبول نہیں کر سکتا یعنی عملاً انکار کرنے والی بات ہے۔تو اب یہ دیکھ لیجئے جیسا کہ میں نے بیان کیا تھا وہ عبادتیں کس کام آئیں گی۔جن عبادتوں کے بعد یہ صفت اُن لوگوں میں ظاہر نہ ہو۔یعنی عبادت کرنے والوں میں الَّذِينَ يَسْتَمِعُونَ الْقَوْلَ فَيَتَّبِعُونَ أَحْسَنَهُ کہ یہ خدا کے نیک بندے جو عبادت کرتے ہیں ان کے اندر یہ خصلت پیدا ہو جاتی ہے اچھی باتیں سنتے ہیں اُس میں سے بہترین کی پیروی کرتے ہیں۔تو اس قرآن کریم کی اس تعلیم سے عاری ہونے کے نتیجے میں یہ سارا دکھ ہے۔پھر پاکستان میں جو ہو رہا ہے اُس کی تو داستان ہی بہت ہی درد ناک ہے، بہت ہی لمبی ہے۔اس قدر ظلم ہوا ہے وہاں اسلام کے نام پر کہ ہر برائی قوم میں نافذ کر دی گئی ہے اور نام اسلام کا استعمال ہوا ہے اور ایسا دردناک منظر ہے کہ اب رمضان شریف میں آخری عشرے میں کراچی شہر میں ایک مسلمان دوسرے مسلمان کو قتل کر رہا ہے اور اس قدر نفرت کے ساتھ ایسے ظالمانہ طریق پہ مار رہا ہے کہ کوئی احساس نہیں رہا باقی کہ ہم کیا کر رہیں ہیں کونسے دن ہیں۔اس طرح وہ آخری عشرہ منا رہے ہیں۔چنانچہ خبریں اس طرح کی آرہی ہیں اخباروں میں کہ جب روزہ رکھنے سے فارغ ہوئے اور صبح ہوئی تو پھر لاشیں سمیٹنے کے کام شروع ہوئے ، زخمی اکٹھے کر کے ہسپتالوں میں پہنچانے کے کام شروع ہوئے۔یعنی رات کو عبادت یہ ہے کہ ایک بھائی دوسرے معصوم بھائی کا قتل کرے اور اتنی زیادہ