خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 337 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 337

خطبات طاہر جلدے 337 خطبه جمعه ۱۳ رمئی ۱۹۸۸ء کا کام ہے۔مناسب لوگوں تک پہنچانے کا کام ہے۔اُن کے دلوں پر نیک اثرات مترتب ہونے والا کام ہے۔یہ ساری باتیں خدا کے فضل اور اُس کی توفیق کے بغیر حاصل ہو نہیں سکتی۔اور بھی بہت سے پروگرام ہیں جن کی تفاصیل میں یہاں جانے کا وقت نہیں ہے۔بہت سے پرانے خطبات میں میں نے وقتا فوقتا ان پر روشنی ڈالی ہے اور کئی گھنٹوں کا مضمون ہے کم سے کم کئی گھنٹے کہنا چاہئے۔جس میں وہ سارے جو بلی کے کام جو پیش نظر ہیں وہ بیان کئے جاسکتے ہیں۔تو ان سب پر نگاہ رکھنا، ان کو نظم وضبط کے ساتھ سرانجام دینا اور ان کے لیے ذرائع کا مہیا ہونا یہ ایسی بات نہیں ہے جو خدا کے فضل کے بغیر حاصل ہو سکے۔اس لئے خصوصیت سے ان ساری باتوں میں دعا کریں۔اللہ تعالیٰ جماعت کو توفیق عطا فرمائے کہ وہ سوسالوں کے احسانات کا شکر ادا کرنے کے لیے جو جد و جہد کر رہی ہے۔وہ اس حد تک کامیاب ہو کہ خدا کی تحسین کی نظریں اُس جد و جہد پر پڑیں۔وہ شکر اگر ناقص بھی ہے تو ناقص تو ہو گا ضرور کیونکہ بندے کا شکر تو کامل نہیں ہو سکتا۔تو خدا اُسے قبول فرمالے اصل بات تو یہ ہے کہ اپنی منزل تک وہ شکر پہنچ جائے یعنی خدا کی بارگاہ میں رسائی پا جائے یہ آخری خلاصہ ہے ان دعاؤں کا۔اس لیے میں اُمید رکھتا ہوں کہ سب احباب خصوصیت سے ان دعاؤں کو یا درکھیں گے۔دوسرا پہلو ہے مسلمان ممالک کے لیے دعا کرنا اور عالم اسلام کے لیے دعا کرنا۔میں نے جیسا کے بیان کیا تھا احسن کا مضمون تو در کنار ، بدنصیبی سے بہت سے مسلمان ممالک ہیں جو غلط تحریکات کی پیروی کرنے کے نتیجے میں بڑی مصیبتوں کا شکار ہیں اور بہت سے مسائل نے اُن کو گھیر رکھا ہے، بہت ہی درد ناک مناظر ہیں جو عالم اسلام میں ظاہر ہورہے ہیں۔فلسطین میں جو غیروں کے ہاتھوں ظلم ہورہے ہیں۔اُن میں تو ایسی بے بسی کا عالم ہے کہ دعا کے سوا چارہ ہی کوئی نہیں ہے اور نہایت ہی سفاک اور ظالم قوم سے مسلمانوں کا واسطہ ہے لیکن اُس کے علاوہ جو مسلمان خود ایک دوسرے پر ظلم کر رہے ہیں۔وہ ایسی چیز ہے جس کے لیے کوئی ہمارے پاس جواز نہیں ہے اور وہاں بھی جماعت احمدیہ کے پاس طاقت نہیں ہے کہ ان کو پکڑ کر الگ الگ کر سکیں اور ایک دوسرے سے ظلم کرنے سے باز رکھ سکیں سوائے اس کے کہ ہم ان کے لیے دعا کریں۔آپ اندازہ کریں کہ ایک لمبا عرصہ ہو چکا ہے کہ عراق اور ایران کے درمیان ایک بے