خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 28
خطبات طاہر جلدے 28 88 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۸۸ء توجہ دلاتے ہوئے فرمایا قُلِ ادْعُوا الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ مِنْ دُونِهِ فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ القُرِ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا (بنی اسرائیل : ۵۷) کہہ دے کہ وہ لوگ جن کو تم خدا کے سوا بلاتے اور خدا کے سوا گویا تم اس کا شریک ٹھہراتے ہو فَلَا يَمْلِكُونَ كَشْفَ الضُّرِ عَنْكُمْ وَلَا تَحْوِيلًا کہ وہ تو تم سے نہ کوئی تکلیف دور کر سکتے ہیں اور نہ کوئی مصیبت ٹال سکتے ہیں کسی قسم کی کوئی تبدیلی تمہارے اندر پیدا نہیں کر سکتے أُولَيكَ الَّذِينَ يَدْعُونَ يَبْتَغُونَ إلى رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ وَيَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَهُ إِنَّ عَذَابَ رَبَّكَ كَانَ مَحْذُورًا (بنی اسرائیل :۵۸) یہی وہ لوگ ہیں جو پکارتے ہیں اللہ تعالیٰ کو دلی خواہش اور تمنا کے ساتھ اور اس کے لئے وسیلہ حاصل کرنے کی تمنا رکھتے ہیں۔خدا تک پہنچانے والے ذریعے کی تلاش میں خود رہتے ہیں اور یہ جو وسیلہ یہاں بیان فرمایا گیا ہے یہ عام رستہ، عام طریق، عام طریق کار نہیں بلکہ بعض زندہ لوگوں کو وسیلہ کے طور پر اس آیت میں پیش فرمایا ہے جو خدا کے مقرب ہیں وہ تلاش کرتے ہیں اِلی رَبِّهِمُ الْوَسِيلَةَ أَيُّهُمْ أَقْرَبُ کہ وہ لوگ جو خدا کی راہ میں وسیلہ بنتے ہیں ان میں سے کون زیادہ قریب ہے وہ خود اس کی تلاش میں رہتے ہیں۔اس لفظ أَيُّهُمْ اَقْرَبُ میں فرشتے بھی آجاتے ہیں اور خدا کے محبوب اور مقرب بندے بھی آجاتے ہیں يَرْجُونَ رَحْمَتَهُ وَيَخَافُونَ عَذَابَہ وہ خدا کی رحمت کی تمنار کھتے ہیں اور اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں۔اِنَّ عَذَابَ رَبَّكَ كَانَ مَحْذُورًا يقينا تیرے رب کا عذاب ایسا ہے جس کا خوف دلایا جاتا ہے جس سے خوف کھانا چاہئے۔اس آیت میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ خدا تعالیٰ کے بعض بندے جو خدا تعالیٰ کو پیارے ہوتے ہیں بعض ظالم لوگ ان کو بھی شریک بنا لیتے ہیں اور جن کو وہ شریک بناتے ہیں وہ خود خدا تعالیٰ کی راہیں تلاش کرنے والے لوگ ہوتے ہیں اس لئے یہاں عام بت مراد نہیں ہیں یا فرضی خدا مراد نہیں ہیں۔خدا کے وہ نیک بندے مراد ہیں جن کو بعض دوسرے اپنی جہالت اور لاعلمی کے نتیجہ میں خدا کا شریک ٹھہرا لیتے ہیں۔وہ منزل نہیں ہوا کرتے وہ منزل تک پہنچانے والے ہوا کرتے ہیں لیکن ان کو منزلیں بنا لیا جاتا ہے، ان کو مقصود بالذات بنا لیا جاتا ہے تو فرمایا خبر دار ایسی حرکت نہ کرنا ورنہ تم بھی تباہ ہو جاؤ گے۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کر کے خدا فرماتا ہے کہ یہ لوگ جو تجھ سے پہلے