خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 300
خطبات طاہر جلدے 300 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء جا کر جس حد تک ان کو توفیق ملتی ہے استفادہ کرتے ہیں۔وہ رمضان کے یہ دن جن میں اب ہم داخل ہورہے ہیں ان کا ایسا ہی اسی مضمون سے تعلق ہے اور رمضان کے استغفار کے موسم میں سے گویا ایک نیا استغفار کا موسم پھوٹنے والا ہے یعنی وہ آخری دہا کا رمضان کا جو خاص بخشش کی طلب اور دعاؤں کا زمانہ ہے اس میں ہم داخل ہونے والے ہیں۔یہ آیت جس کی میں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی بِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ کا مضمون بیان ہوا ہے کہ خدا کے مومن پاکیزہ بندے یا پاکیزگی طلب کرنے والے بندے صبحوں میں اپنے لیے استغفار کرتے ہیں۔لیکن اس آیت میں وہ پہلا حصہ مضمون کا بیان ہوا ہے اُس کا خصوصیت سے رمضان کے اس آخری عشرہ سے تعلق ہے۔فرمایا اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَعُيُونٍ متقی وه لوگ ہیں جو تسکین بخش سایہ دار باغوں میں ہوں گے جہاں چشمیں پھوٹ رہے ہوں گے اخِذِينَ مَا أَتُهُم رَبهُمُ الله تعالیٰ جو کچھ بھی اُن کو عطا فرمائے گا وہ اُسے قبول کر رہے ہوں گے إِنَّهُمْ كَانُوْا قَبْلَ ذَلِكَ مُحْسِنِينَ۔اس سے پہلے یہ لوگ محسن تھے۔محسن تو ہمیشہ خدا ہی رہتا ہے لیکن اس موقع پر بندوں کا ذکر محسن کے طور پر کرنا بھی خدا کے احسان کی ایک انتہاء ہے اور تلطف کی انتہاء ہے۔یہاں محسن کا لفظ اُن معنوں میں تو استعمال نہیں ہوسکتا نہ کیا گیا ہے جن معنوں میں ہم عام طور پر لفظ احسان استعمال کرتے ہیں کہ کسی طرح احسان کرنا مگر ایک طرف یہ فرمایا کہ ہم اب اُن کو دے رہے ہیں اور وہ لینے والے ہیں۔اس سے پہلے ایک وقت تھا کہ وہ محسن تھے اس طرز بیان میں نہایت ہی درجہ تلطف پا یا جاتا ہے اور اگلی آیت اس مضمون کو کھول دیتی ہے كَانُوا قَلِيلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ۔بہت تھوڑا وہ راتوں کو آرام کیا کرتے تھے اور احسان کی یہ تعریف فرمائی گئی کہ وہ جو خدا کی عبادت میں اتنا بڑھتا ہے کہ اپنے آرام کو بھول جاتا ہے اپنے آرام کو خدا کی خاطر ترک کر دیتا ہے اور راتوں کو بہت تھوڑا آرام کرتا ہے اور اُٹھتا ہے۔اللہ تعالیٰ اُسے محسن شمار فرماتا ہے محسنین میں شمار فرماتا ہے۔خدا پر تو جیسا کہ میں نے بیان کیا اور سب جانتے