خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 299 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 299

خطبات طاہر جلدے 299 خطبه جمعه ۶ رمئی ۱۹۸۸ء استغفار کی حقیقت خطبه جمعه فرموده ۶ رمئی ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد حضور نے درج ذیل آیات تلاوت کیں : اِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّتٍ وَعُيُونِ أخِذِينَ مَا الهُورَتُهُم اِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذلِكَ مُحْسِنِينَ كَانُوْا قَلِيْلًا مِّنَ الَّيْلِ مَا جَعُوْنَ وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ (الذاريات: ١٢ - ١٩) پھر فرمایا: گزشتہ خطبے میں نے ذکر کیا تھا کہ ہر چیز کے ایک موسم ہوا کرتے ہیں اور رمضان کے آنے سے ہمارے لیے استغفار کے موسم آگئے۔موسموں میں بھی ایک سی حالت نہیں ہوا کرتی بلکہ آپ نے دیکھا ہو گا بعض دفعہ خزاں سے بھی ایک نئی خزاں پھوٹتی ہے اور وہ موسم یوں معلوم ہوتا ہے جیسے ہر طرف ایک موت کا سا سماں پیدا ہو گیا ہے۔اُس طرح بہاروں سے بھی نئی بہاریں پھوٹتی ہیں اور بعض دفعہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ بہار قابو میں نہیں رہی۔پھول پھل سب بے قابو ہو جاتے ہیں۔نہ زمیندار سے سنبھالے جاتے ہیں نہ دیکھنے والے اُن سے استفادہ کی پوری طاقت رکھتے ہیں اور ایسے ہی موسموں میں آپ نے انگلستان میں بھی دیکھا ہوگا کہ بہت سے زمیندار ایسے وقت میں پھر عام دعوت دے دیتے ہیں کہ جس کا بس چلتا ہے آئے اور آ کے ہماری فصلوں سے جس حد تک استفادہ کر سکتا ہے کرے۔کچھ معمولی پھل وہ قیمت کے طور پر اپنے لیے بھی رکھتے ہیں لیکن ایسے دنوں میں سارے یورپ میں رواج ہے قافلوں کے قافلے ایسے موقعوں پر پھلوں کے باغوں میں یا سبزی کے باغوں میں