خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 280
خطبات طاہر جلدے 280 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء کے پیچھے کوئی ہاتھ ہے جو ان کو دولت دے رہا ہے اور کسی مقصد کے لئے استعمال کر رہا ہے۔مذہب کی بیداری کے نتیجے میں یہ لوگ نظر نہیں آرہے، اگر مذہب کی بیداری کے نتیجے میں نظر آئیں تو مذہب دکھائی دینا چاہئے ، اعلیٰ اخلاق دکھائی دینے چاہئیں مسجدیں آباد ہونی چاہئیں، غریبوں کی ہمدردی کے کام ہونے چاہئیں، ڈرگ اور شراب نوشی اور بدکاریوں سے پر ہیز ہونا چاہئے ، معاشرے میں اچھی باتیں سننے میں آنی چاہئیں ، ملک و قوم سے محبت بڑھنی چاہئے۔ان سب باتوں کا فقدان ہو ، چوریاں بڑھ جائیں ، ڈا کے بڑھ جائیں، ایک دوسرے کے مال غصب کرنے کے واقعات بڑھ جائیں ، رشوت ستانی اتنی عام ہو جائے کہ اوپر سے نیچے تک کوئی خلا دکھائی نہ دے رہا ہو ، ساری قوم گویا کہ رشوت میں مبتلا ہوگئی ہو، حرص اور لالچ بڑھ جائے تو ان داڑھیوں اور اونچی شلواروں اور اس خاص قسم کے لباس کو آپ مذہب کے علمبر دار یا مذ ہب کا نشان قرار نہیں دے سکتے کیونکہ جب مذہب کی سطح بلند ہوتی ہے اس وقت اگر یہ چیزیں نظر آئیں تو بہت پیاری دکھائی دیں گی۔اگر واقعہ مذہبی اقدار بڑھ رہی ہوں تو پھر جتنی داڑھیاں آپ دیکھیں گے وہ چہروں پر زیب دیں گی ، بہت ہی حسین دکھائی دیں گی کیونکہ وہ سنت کا نشان ہے لیکن اگر بدکاریاں بڑھ رہی ہوں تو پھر یہ داڑھیاں ریا کاری کا نشان بن جاتی ہیں کیونکہ وہ مذہب کے نتیجے میں نہیں ہوتیں ان کی جڑیں کسی اور چیز میں ہیں۔اس لئے ہر پہلو سے ملک میں خوفناک حالت ہے جو دل ہلا دینے والی ہے۔تو اس موقع پر میں آپ کو یہ نصیحت کرنی چاہتا ہوں کہ اس قوم کے لئے بچنے کی دعا کریں۔یہ حادثہ تو خدا کی ناراضگی کا مظہر ہے۔اس ناراضگی کے جو موجبات ہیں وہ کثرت کے ساتھ قوم میں ہر جگہ پھیلے پڑے ہیں صرف احمدیت کی مخالفت کا سوال نہیں رہا قوم ظالم ہوگئی ہے، قوم بددیانت ہوتی چلی جارہی ہے، قوم کے اندر وہ سارے جرائم بڑھ رہے ہیں جن کے نتیجے میں تو میں پھر زندہ نہیں رہا کرتیں۔اس لئے اس کی فکر کریں اور اس رمضان مبارک میں خصوصیت کے ساتھ قوم کی روحانی اور اخلاقی زندگی کے لئے دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ اس قوم کو ہلاکت سے بچائے۔احمدیوں کو اگر کوئی ایسی چیز نظر آئے جس کے نتیجے میں خدا کی سزا کا ہاتھ دکھائی دیتا ہو تو وقتی طور پر ان کے دل میں ممکن ہے اطمینان بھی پیدا ہو، وہ سمجھیں کہ خدا تعالیٰ نے آخر انتقام لیا لیکن یہ چیز