خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 279
خطبات طاہر جلدے 279 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء اور مجھے اب یاد نہیں کسی اور جگہ سے بھی اسی مضمون کی خواب آئی تھی مگر وہ بالکل ایسی نہیں ملتی جلتی خواب تھی۔تو اس سے اس بات کو مزید تقویت ملتی ہے کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ناراضگی کا اظہار ہے اور یہ نا راضگی کا اظہار تو اب غیروں کو بھی محسوس ہونے لگا ہے۔پاکستان سے جو اخبارات مل رہے ہیں ان میں مختلف فکر ونظر کے لوگوں کے ایسے بیانات چھپ رہے ہیں کہ جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ خدا تعالیٰ ناراض ہے اور یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں ہے محض حادثہ نہیں ہے۔ناراض کیوں ہے؟ اس سلسلے میں ان کے اندازے ہم سے مختلف ہوں گے۔چنانچہ بعض لوگ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جی! اس لئے ناراض ہے کہ احمدیوں کو ابھی تک پوری طرح ہلاک نہیں کیا لیکن جب احمدیوں کو برابر کے انسانی حقوق حاصل تھے اس وقت پھر زیادہ ناراض ہونا چاہئے تھا اس وقت خدا کیوں پاکستان سے ناراض نہیں ہوا۔یہ عجیب ناراضگی ہے کہ جب آپ احمدیوں کے خلاف ظلم میں بڑھتے چلے جائیں اس وقت خدا تعالیٰ کی ناراضگی زیادہ ظاہر ہونی شروع ہو جائے اور یہ ناراضگی زندگی کی ہر سطح میں ظاہر ہو رہی ہے۔اتنا جرم بڑھ گیا ہے اور اتنی بد امنی ہے کہ عالمی اندازوں کے مطابق گزشتہ سال ساری دنیا کے ممالک میں پاکستان کو بدامنیوں کے لحاظ سے نمبر ایک پر شمار کیا گیا ہے۔یہ ایک ایسی بات ہے جو وہم و گمان میں بھی نہیں کبھی پہلے آسکتی تھی۔پاکستان دنیا کے ان ممالک میں شمار ہوتا تھا جہاں امن مستحکم ہے، جہاں اس قسم کی بدامنی کے قصے وہم و گمان میں بھی نہیں کسی کے آیا کرتے تھے اور اب یہ ساری دنیا میں نکاراگوا وغیرہ سب کو شمار کر لیا ہے انہوں نے اور جنوبی امریکہ کے ممالک، یہاں تک کہ لبنان کو بھی شامل کیا ہے اور اس کے مقابل پاکستان کو بدامنی کے لحاظ سے نمبر ایک قرار دیا ہے۔پھر جرائم کے لحاظ سے، اتنے زیادہ جرائم بڑھ چکے ہیں، بد امنی کے جرائم کے علاوہ بھی یعنی ڈرگز پینا ، بد دیانتی ایک دوسرے سے کرنا ، ایک دوسرے کی حق تلفی کرنا ،گلیوں میں گالی گلوچ اور پھر دنیا پرستی بالعموم یعنی مذہب تو ایک صرف اخباروں میں چھپنے والا نام رہ گیا ہے۔عام طور پر انسانی زندگی میں مذہب کا بہت تھوڑا حصہ دکھائی دیتا ہے سوائے اس کے کہ کچھ مذہبی لباس پہنے ہوئے مولوی آپ کو نظر آنے شروع ہو جائیں وہ ہر جگہ نظر آتے ہیں۔ان کو پیسہ ملتا ہے کچھ لوگ ان کو استعمال کرتے ہیں ، ہوائی جہازوں میں سفر کرتے ہیں ، موٹرمیں ملتی ہیں ، موٹر لے کر پھرتے ہیں ، موٹر سائیکل ملتے ہیں تو موٹر سائیکلوں پر چڑھے پھرتے ہیں لیکن یہ پتا لگ رہا ہے کہ ان