خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 273 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 273

خطبات طاہر جلدے 273 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء رمضان گزر جائے تو معیار گرے بھی تو اتنا نہ گرے کہ پہلی سطح پر واپس آ جائے بلکہ سطح بلند ہو جائے۔اس لئے انفرادی طور پر جب آپ بچوں کو ان امور کی طرف متوجہ کریں گے کہ آپ نے جھوٹ نہیں بولنا تو یہ کہ کر متوجہ کرنا ہے کہ جھوٹ تو رمضان کے بعد بھی نہیں بولنا لیکن رمضان میں اگر بولا تو پھر کچھ بھی حاصل نہیں تمہارے بھوکے رہنے سے کوئی فائدہ نہیں۔اس لئے جب آپ تمہیں دن جھوٹ نہ بولنے کی اہمیت یاد دلاتے ہیں تو ساتھ ساتھ یہ بھی بتاتے رہیں کہ رمضان تو ایک ایسی برکتوں کا مجموعہ ہے جو ایک مہینے کے اندر ختم نہیں ہوتی بلکہ سارے سال کے لئے تمہارے لئے ایک خزانہ لے کے آتی ہیں، ایسا رزق عطا کر جاتی ہیں جسے تم سارا سال کھاؤ۔جھوٹ نہیں بولنا کا یہ مطلب ہے کہ رمضان تمہیں متوجہ کر رہا ہے اور رمضان کے گزرنے کے بعد بھی نہیں بولنا اور کوشش کر و اس بات کی طرف کے جب بھی جھوٹ کی طرف ذہن جائے تو یاد کیا کرو کہ آج تو رمضان ہے اور جب رمضان سوچو گے تو ساتھ یہ بھی سوچا کرو کہ یہ تو پریکٹس کا وقت ہے آئندہ بھی نہیں بولنا۔اس طرح پیار کے ساتھ چھوٹی چھوٹی باتیں بچوں کو سمجھائی جائیں تو وہ سمجھتے ہیں اور اس کو اچھی طرح سے بعض دفعہ مضبوطی سے پکڑ لیتے ہیں۔میرا ذاتی طور پر یہی تجربہ ہے کہ بہت سی ایسی باتیں جو بچپن میں اس طرح سمجھائی گئیں وہ ہمیشہ کے لئے دل پر نقش ہو گئیں اور بعد میں آنے والی جو بڑی بڑی نصیحتیں ہیں وہ اتنا گہرا اثر نہیں کر سکیں جتنا بچپن کی چھوٹی چھوٹی باتیں جو دل پر اثر کر جاتی ہیں وہ ایک نقش دوام بن جاتی ہیں اور اس عمر سے آپ کو استفادہ کرنا چاہئے۔میں نے پہلے بھی ایک دفعہ توجہ دلائی تھی کہ آپ اپنی زندگی پر غور کر کے دیکھیں آپ کی بہت سی خوبیاں جو خدا نے آپ کو عطا کی ہیں ان کی بنیاد میں بچپن میں ڈالی گئی ہیں اور جو رسوم ایک دفعہ دل پر مرتسم ہو جائیں ، جو تحریریں لکھی جائیں بچپن کی لکھی ہوئی تحریر یں وقت کے ساتھ مٹنے کی بجائے مضبوط ہوتی چلی جاتی ہیں اور زندگی کا حصہ بنتی چلی جاتی ہیں۔بعد کے زمانے میں تحریریں بنتی بھی ہیں اور مٹ بھی جاتی ہیں لیکن بچپن میں خدا تعالیٰ نے ایک خاص بات رکھی ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو ذہنی طور پر بعد میں بیمار ہو جاتے ہیں ان کی یاد داشت نہیں رہتی Arterosclerosis کی بیماری میں مثلاً مبتلا ہوتے ہیں۔ان سے آپ بات کر کے دیکھیں ان کو کل کی بات یاد نہیں ہو ، گی آج کی بات بھی یاد نہیں ہوگی لیکن بچپن کی باتیں ساری یاد ہوں گی اور ایسی وضاحت کے ساتھ یاد ہوتی ہیں کہ