خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 269
خطبات طاہر جلدے 269 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء کا تعلق ہے یہاں پر تراویح کا انتظام ہے مگر تراویح میں یہ جو خیال کیا جاتا ہے کہ ضروری ہے کہ پورا ایک پارہ روزانہ یا اس سے کچھ زائد تا کہ انتیس دنوں میں پورا قرآن کریم ایک دفعہ اس کا دور مکمل کیا جا سکے۔یہ خیال سختی کے ساتھ عمل کرنے والا خیال نہیں ہے کہ اس کے بغیر تراویح نہیں ہو سکتی۔تراویح کی روح در اصل تہجد کا متبادل ہے۔وہ نوافل جو تہجد میں پڑھنے ہیں وہ آپ رات کو پڑھ لیں۔تہجد کے متعلق قرآن کریم نے جو اصولی تعلیم دی ہے وہ یہ ہے کہ جس قدر بھی قرآن کریم میسر آجائے اور میسر آنے سے مراد یہ ہے کہ ہر شخص کی اپنی حیثیت ہے، اپنا علم ہے جتنی سورتیں یاد ہیں اس کے مطابق وہ تہجد کے وقت پڑھ سکتا ہے ورنہ کتاب کھول کے تو نہیں پڑھ سکتا۔تو یہ سنت جو حضرت عمر کے زمانے میں جاری ہوئی اس میں بھی حضرت عمرؓ نے ایک زائد حسن پیدا کرنے کی خاطر یہ بات پیدا کی۔فرمایا کہ اگر باجماعت تراویح کا انتظام کرنا ہی ہے تو کیوں نہ میں ایک قاری کو مقرر کر دوں۔چنانچہ ایک قاری جو بہت ہی خوش الحان تھے ان کو آپ نے مقرر فرما دیا۔( بخاری کتاب الصلوۃ التراویح حدیث نمبر : ۲۰۱۰) اب یہ بھی قطعی طور پر ثابت نہیں ہے کہ وہ پورا قرآن کریم پڑھ لیا کرتے تھے مگر بالعموم نتیجہ یہی نکالا جاتا ہے کہ ان کو غالبا سارا حفظ ہوگا اور سارے قرآن کریم کا ورد کرتے ہوں گے۔تو سارا ضروری بھی نہیں ہے۔اس دور کو ضروری سمجھ کر یعنی اس دور کو ضروری سمجھتے ہوئے کہ سارا قرآن کریم مکمل کیا جائے بعض بدعتیں بھی مسلمانوں میں پیدا ہونی شروع ہو گئیں۔چنانچہ بعض جگہ قرآن کریم سامنے کھول کر رکھا جاتا ہے اور وہاں سے پڑھ پڑھ کر تراویح کی جاتی ہے حالانکہ باہر سے اگر قرآن کریم پڑھنا ہے تو تہجد تو ختم ہو گیا۔تہجد کا تو کچھ بھی باقی نہ رہا۔تہجد تو اس بات کی اجازت ہی نہیں دیتا کہ آپ کی توجہ کسی دوسری تحریر کی طرف ہو۔اس لئے جو قرآن کریم کی روح اور اس کا منشا ہے اس کو پورا کرنا چاہئے۔وہ یہ ہے کہ مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْآنِ (المزمل: ۳۱) قرآن کریم سے جو بھی میسر آ جائے اس کو آپ پڑھیں۔اس لئے خواہ مخواہ تکلفات سے کام نہ لیں بلکہ جس حد تک بھی حفاظ موجود ہیں اس حد تک قرآن کریم کی تلاوت کی جائے اور تنوع پیدا کرنے کے لئے اور اس حکمت کے پیش نظر کہ بعض لوگوں کو بعض سورتیں یاد ہوتی ہیں، بعض دوسروں کو دوسری یاد ہوتی ہیں آپ باریاں بدل سکتے ہیں۔یعنی بجائے اس کے کہ ایک ہی آدمی ہمیشہ تراویح پڑھائے جماعت جائزہ لے لے ، مختلف