خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 265
خطبات طاہر جلدے 265 خطبه جمعه ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء رمضان کو تربیت اولا د کیلئے خصوصیت سے استعمال کریں۔اوجڑی کیمپ کے المناک حادثہ کا تذکرہ (خطبه جمعه فرموده ۲۲ را پریل ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے فرمایا:۔گزشتہ جمعہ کے موقع پر میں نے جماعت کو یہ نصیحت کی تھی کہ روزہ رکھنے کی عادت نئی نسلوں کو خصوصیت کے ساتھ ڈالنی چاہئے کیونکہ عموماً میرا یہ تاثر ہے کہ ہماری نئی نسلوں میں خاص طور پر وہ جو یورپ اور امریکہ یا دیگر بعض ممالک میں پیدا ہو کے بڑی ہوئی ہیں روزے کا پورا احترام نہیں ہے اور اس کی پوری اہمیت ان پر واضح نہیں اور ماں باپ کا بھی بہت حد تک قصور ہے کہ رمضان شریف آکر گزر جاتا ہے اور وہ اپنے روزے پر ہی اکتفا کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ انہوں نے حق ادا کر دیا حالانکہ جب تک اولاد کو صحیح معنوں میں دین کے فرائض سے آگاہ نہ کیا جائے اور ان کو اختیار کرنے میں، ان پر عمل کرنے میں ان کی مدد نہ کی جائے والدین کا حق ادا نہیں ہوتا۔اس تحریک کے بعد خدا تعالیٰ کے فضل سے جو اطلاعیں مل رہی ہیں وہ بہت امید افزا ہیں، خوش کن ہیں اور انگلستان ہی میں نہیں بلکہ بعض دوسرے ممالک میں بھی خدام الاحمدیہ نے ، انصار اللہ نے ، ذیلی تنظیموں لجنہ وغیرہ نے اپنے اپنے رنگ میں فوری طور پر کوشش کی اور خدا کے فضل کے ساتھ اب تک جو اطلاعیں ملی ہیں ابھی وقت تھوڑا ہے ابھی مزید بھی آئیں گی معلوم ہوتا ہے کہ اس پہلو سے ایک بیداری پیدا ہوئی ہے، ایک احساس پیدا ہوا ہے اور جماعت نے ہر سطح پر منظم کوشش شروع کر دی ہے۔اس ضمن میں کچھ اور باتیں بھی بیان کرنی ضروری ہیں۔ان ممالک میں جہاں بچپن سے تربیت کا وہ ماحول میسر نہیں جو بڑے معاشرے کے نتیجے میں ہمیں میسر آجایا کرتا ہے مثلاً ربوہ یا