خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 22 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 22

خطبات طاہر جلدے 22 22 خطبہ جمعہ ۸/جنوری ۱۹۸۸ء امر واقعہ یہ ہے کہ لفظ جو بلی ان دنوں میں یعنی اس زمانہ میں ہرگز کسی غیر مذہبی گزشتہ تاریخ کی کوئی یاد دلانے والا لفظ نہیں بلکہ Jubilation انگریزی میں ایک ایسا لفظ ہے جس کا مطلب ہے خوشی کا اظہار اور جو بلی خوشی کے اظہار کے سال کو کہتے ہیں۔اس لئے جماعت احمدیہ نے جب اس اصطلاح کو استعمال کیا تو صرف انہی معنوں میں استعمال کیا تھا لیکن درحقیقت اس استعمال کے اندر جماعت احمدیہ کے اپنے اصطلاحی معنی بھی پائے جاتے ہیں کیونکہ جب بھی ہم خوشی کا اظہار کرتے ہیں تو ہمارا ہر خوشی کا اظہار مذہبی رنگ رکھتا ہے۔اس لئے لفظ جو بلی کا احمدیہ ڈکشنری کے لحاظ سے یہ ترجمہ ہوگا اظہار تشکر کا سال، یعنی خدا تعالیٰ کی حمد و ثناء کا سال۔اللہ تعالیٰ کے بے شمار انعامات اور رحمتوں کے نازل ہونے کے نتیجہ میں جذبات تشکر کے اظہار کی کوشش کا سال۔اظہار کا سال بھی ہم اس لئے نہیں کہہ سکتے کہ عملاً خدا تعالیٰ کے اتنے احسانات ہیں کہ انسان اگر ہرلمحہ بھی ان احسانات کا تصور کر کے ان کے شکریہ کے اظہار کی کوشش کرے تو اس کے لئے ممکن نہیں ہے۔اول تو ہر انسانی لحہ اس کے اپنے اختیار میں نہیں دوسرے دیگر مصروفیات کی وجہ سے اس کی زندگی کے اکثر لمحے دوسرے کاموں میں مصروف ہو جاتے ہیں یا ضائع ہو جاتے ہیں۔تو خدا تعالیٰ کے تشکر کے اظہار کا حق تو ادا ہو ہی نہیں سکتا۔پھر سو سالہ رحمتوں کے اظہار تشکر کے لئے ایک سال کا انتخاب کر کے یہ خیال کر لینا کہ صرف ایک سال میں اظہار تشکر ہو جائے گا۔یہ محض ایک بچگانہ خیال ہے لیکن کوشش سنجیدہ ہے۔اظہار ممکن نہ بھی ہو لیکن اگر نیت اظہار کی ہونیت پاک ہو محبت پرمبنی ہو ، خلوص پر مبنی ہو حَنِيفًا مسلما ہوتے ہوئے انسان یہ چاہے کہ میں اپنے رب کے تشکر کے اظہار کی پوری کوشش کروں تو یہ ضرور ممکن ہے اور اس کوشش کو بچگانہ کوشش قرار نہیں دیا جاسکتا۔پس ساری دنیا کی جماعتوں نے ، ہر جماعت کے ہر فرد نے اس سال کو خصوصیت سے اللہ تعالیٰ کے احسانات کے شکریے کے ادا کرنے کی کوشش میں گزارنا ہے اور اس کا بر ملا اظہار بھی کرنا ہے۔اظہار کس طرح ہوگا اس کے لئے مختلف منصوبے بنائے گئے ہیں ان پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے بلکہ اتنے مختلف نوع کے منصوبے اس تفصیل سے تیار ہیں کہ خطرہ صرف یہ ہے کہ ان میں سے ہر پہلو پر عمل درآمد کروانے کے لئے جتنا وقت درکار ہے وہ ہمیں اس وقت میسر نہیں اور کئی لحاظ سے خطرہ پیدا ہورہا ہے کہ اس منصوبے کی تعمیل میں خامیاں نہ رہ جائیں۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فر مائے