خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 260 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 260

خطبات طاہر جلدے 260 خطبه جمعه ۱۵ راپریل ۱۹۸۸ء پس وہ لوگ جنہوں نے نہ روزے رکھے ، نہ عبادتیں کیں ان کی حسرتوں کا کیا حال ہوگا إِن كُنتُمْ تَعْلَمُونَ یہ بات ہی ہے جو آخر پر منہ سے نکلتی ہے۔کاش ! تمہیں پتا ہوتا تم تو بے خبر ہو۔جنہوں نے بہت محنتیں کیں اور عارف باللہ ہیں اور باشعور ہیں ان کو بھی آخر پر یہ احساس پیدا ہوا کہ اوہو! برکتوں کا پاکیزہ مہینہ گزر گیا کئی کمزوریاں ہماری پیچھے رہ گئیں ہیں جنہیں ہم دور نہیں کر سکے، کئی بوجھ ہیں جنہیں ہم اتار نہیں سکے، کئی نعمتیں ہیں جن سے ہم ابھی بھی محروم چلے آرہے ہیں، گو خدا نے بہت کچھ عطا کیا لیکن ہماری دل کی طلب پوری نہیں ہو سکی۔یہ باخبر لوگوں کا حال ہے۔جو بے خبر ہیں ان کو تو بے چاروں کو تو پتا ہی کچھ نہیں کہ کیا چیز ان کے لئے آئی تھی اور کیا گزرگئی۔اس لئے باشعور لوگوں کا ، باخبر لوگوں کا کام ہے کہ بے خبر لوگوں کو مطلع کریں، ان کو جھنجوڑ میں، ان کو بیدار کریں، ان کی منتیں کریں کہیں کہ گنتی کے چند دن ہیں تم کر کے تو دیکھو اور بچوں کو بھی عادت ڈالیں ، ایک روزہ مہینے کا ، دوروزے مہینے کے اس طرح آہستہ آہستہ بچپن میں جو ماں باپ عادت ڈالتے ہیں ان کے بچوں کو پھر اللہ تعالیٰ توفیق دیتا ہے رمضان سے ان کو محبت پیدا ہو جاتی ہے۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ یہ رمضان ہمارے لئے یہ برکت بھی چھوڑ کر جائے گا کہ کثرت کے ساتھ وہ احمدی جو پہلے روزہ نہیں رکھتے تھے وہ اس رمضان کی برکت سے روزے رکھنے والے احمدی بن جائیں گے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے اور ہمیں ضرورت بھی بہت ہے۔اتنی مشکلات کے دن ہیں۔کئی قسم کی سختیاں ہیں جماعت پر، پھر کام کے بہت سے دن ہیں آگے نئی صدی کے آنے والے ہیں کام ، ذمہ داریاں بڑھ رہی ہیں، نئی جماعتیں آرہی ہیں۔جتنے روزے دار بڑھیں گے اتنے باخدا انسان بڑھیں گے اور جتنے باخدا انسان بڑھیں گے اور خدا سے پیوند زیادہ قائم ہو گا اتنی ہی زیادہ برکتیں نازل ہوں گی۔اللہ تعالیٰ ہماری برکتوں کو وسیع کرے اور ہماری محرومیوں کے راستے بند کر دے۔آمین۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا: خطبہ ثانیہ کے دوسرے حصے سے پہلے دو اعلان کرنے والے ہیں۔ایک تو میرا خیال تھا جمعہ میں ہی کروں گا کیونکہ میں جرمنی کی جماعت سے ایک قسم کا وعدہ کر کے آیا تھا لیکن یہ بھی ایک جمعہ کا حصہ ہی ہے۔میں اس وقت رمضان کے مضمون میں اس پہلو کو نظر انداز کر گیا۔جرمنی کے دورے کے وقت مجھ سے یہ شکوہ کیا گیا بعض عہد یداران کی طرف سے بھی اور