خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 259 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 259

خطبات طاہر جلدے 259 خطبه جمعه ۵ اراپریل ۱۹۸۸ء تو ہیں کر کے تو دیکھو آیا ما مَعْدُودَت کا ایک مطلب تو یہ بھی لیا جا سکتا ہے جن کے اوپر رمضان سخت ہوان کو تسلی دینے کے لئے کہ گنتی کے چند دن ہیں گزر جائیں گے کوئی بات نہیں۔تم تجربہ کرو اور تمہیں فائدے پہنچیں گے اور ایک اور مطلب اس کا یہ ہے کہ گنتی کے چند دن ہی تو ہیں تم کر کے دیکھو گے تمہیں معلوم ہوگا کہ اس کے فائدے لا متناہی ہیں۔چند دن کی سختیاں بہت وسیع فائدے ایسے پیچھے چھوڑ جائیں گی کہ سارا سال تم ان چند دنوں کی کمائیاں کھاؤ گے۔یعنی تھوڑی محنت کے بعد لمبے پھل کا اس میں ذکر فر مایا گیا ہے۔اس لئے جماعت کو میں پھر تاکید کرتا ہوں کہ با قاعدہ منظم طریقے پر ابھی جو ایک دو دن میسر ہیں یا خطبہ جہاں دیر سے پہنچے وہاں ان کو چاہئے کہ جتنا بھی بقیہ رمضان ہو اس میں با قاعدہ جد و جہد کریں کہ ایک بھی احمدی رمضان کی برکتوں سے محروم رہنے والا نہ ہو۔جو مریض اور مسافر ہے وہ بھی محروم نہیں رہے گا کیونکہ خدا تعالیٰ نے اس کو اجازت دی ہے۔اجازت دینے کا یہ مطلب تو نہیں ہے کہ تمہیں میں محروم کر دیتا ہوں۔ایسے لوگ اٹھ سکتے ہیں راتوں کو عبادت کے لئے ، دعاؤں میں شامل ہو سکتے ہیں، رمضان کی دیگر نیکیوں میں شامل ہو سکتے ہیں۔مثلاً کسی شخص کو اگر سخت کلامی کی عادت ہے اور وہ مریض ہے اور مسافر ہے تو رمضان اس کو روزے سے رخصت تو دیتا ہے لیکن بد کلامی کی اجازت تو نہیں دیتا۔اور دیگر بدیوں سے روکنے کا جو رمضان خاص طور پر حکم دیتا ہے اس کا مسافر ہونا یا اس کا مریض ہونا اسے اس حکم سے تو آزاد نہیں کرتا۔اس لئے ہر شخص خواہ اسے خدا تعالیٰ نے رخصت عطا فرمائی ہے، خواہ نہیں عطا فرمائی رمضان سے فائدہ حاصل کئے بغیر نہ نکلے۔حضرت میر محمد اسمعیل صاحب نے ایک دفعہ رمضان کے بعد ایک نظم کہی اور وہ ٹیپ کا ایک مصرعہ مشہور تھا جسے استعمال کیا کہ :- اب کے بھی دن بہار کے یوں ہی گزر گئے بڑی درد ناک نظم ہے لیکن جن لوگوں کو پتا تھا کہ حضرت میر محمد اسمعیل صاحب کیسے خدا کے عبادت گزار بندے تھے ان کو کچھ اندازہ ہو سکتا ہے کہ جو لوگ عبادت گزار ہیں ان کو بھی رمضان کے بعد یہ فکر ہوتی ہے کہ کاش! ہم اس سے زیادہ حاصل کر سکتے۔ان کی تمنائیں بلند ہو جاتی ہیں اور وہ اپنے حال پر جب نظر ڈالتے ہیں تو ایک رنگ کی حسرت محسوس کرتے ہیں۔