خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 225 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 225

خطبات طاہر جلدے 225 خطبہ جمعہ یکم اپریل ۱۹۸۸ء چیزوں کو نمایاں کرتے چلے جاتے ہیں اس لئے وقت بعض پہلووں سے اچھی چیزوں کا سب سے بڑا دشمن بن جاتا ہے کتنی خوبصورت آپ تعمیر کریں وقت کا ہاتھ رفتہ رفتہ اس کو مٹانا شروع کر دیتا ہے اس کا حلیہ بگاڑنے لگتا ہے۔کتنا اچھا لباس آپ بنائیں لیکن گزرتا ہوا وقت بعض اوقات بالکل غیر محسوس طور پر لیکن یقینی طور پر اس لباس کی سج دھج کو اس طرح مٹاتا ہے کہ کچھ عرصہ کے بعد چند سالوں کے بعد آپ اسے پہنیں تو پہن کے شرمانے لگیں گے اپنے دوستوں کے سامنے اس لباس میں جانے کے لیے جھجک محسوس کریں گے۔اسی طرح قومی کردار کے ساتھ بھی وقت کچھ کھیلیں کھیلتا ہے۔اس پہلو سے یہ فکر بہت ہی خطرناک ہے آج اگر ہم آئندہ صدی میں روحانی اور اخلاقی لحاظ سے پوری طرح تیار ہو کر داخل نہ ہوئے تو اس صدی کے آخر کا کیا حال ہوگا۔یہ وہ فکر ہے جو میری تنہا فکر نہیں ہونی چاہئے بلکہ آپ سب کی فکر بن جانی چاہئے۔یہ وہ فکر ہے جو آپ سب کی فکر بننی چاہئے اور یہ فکر دعاؤں میں تبدیل ہونی چاہئے۔ورنہ اتنی بڑی ذمہ داریاں جو ہم پر ڈالی گئی ہیں ہم ہرگز ان کو ادا نہیں کرسکیں گے۔اس پہلو سے بالآخر میں اس بات پر مجبور ہوں کہ جماعت کو یہ اختیار دوں کہ وہ سارے دوست یا وہ سارے خاندان جو یہاں آکر بجائے اس کے کہ اپنی بدیاں پیچھے چھوڑ کر آتے اپنی بدیاں بھی ساتھ لے کر آئے اور یہاں کی بدیاں بھی اختیار کرنے لگے۔ان کو جماعت سے علیحدہ کر دیں اور جہاں ضروری سمجھیں وہاں مجھ سے پوچھے بغیر پہلے قدم اٹھائیں اور پھر مجھے اطلاع کریں کیونکہ بعض دفعہ ایسی بدنامی کا موجب بنتے ہیں بعض لوگ کہ ان کے لئے انتظار نہیں کیا جاسکتا بعض دفعہ عدالتوں کو اطلاع کرنی پڑتی ہے کہ ہوگا یہ شخص پہلے احمدی، ہو سکتا ہے کہ ہم نے سرٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا ہو لیکن اب ہماری نظر میں اس کا احمدیت سے کوئی تعلق باقی نہیں رہا یا اس خاندان کا احمدیت سے کوئی تعلق نہیں اور جب ہم یہ کہتے ہیں تو اس سے یہ مراد نہیں ہے کہ عقیدے کے لحاظ سے وہ شخص بگڑ گیا ہے۔یہ بات ہم پوری طرح کھولتے ہیں کہ ہر شخص کا حق ہے کہ اپنے آپ کو احمدی کہے۔جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سچا سمجھتا ہے وہ کہتا رہے اس کو کوئی روک نہیں سکتا دنیا میں احمدی کہنے سے لیکن احمد یہ جماعت کا جز بننا یہ ایک الگ بات ہے ، احمد یہ نظام کا حصہ بننا ایک الگ بات ہے۔ایک انگلی اگر آپ کاٹ کے پھینک بھی دیں تو انگلی ہی رہے گی۔اس انگلی کو آپ کسی بلے یا کتے یا سور کی انگلی تو نہیں کہہ سکتے جو انسان کی انگلی ہے لیکن اسے کاٹ کر جب پھینک دیا جائے تو وہ انسانی وجود کا