خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 210
خطبات طاہر جلدے 210 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء حرکتیں کر کے گھر میں کے شریعت کی خلاف ورزیاں کر رہی ہیں عورتیں، ہرقسم کی بدیاں پھیل رہی ہیں اور وہ سمجھتے ہیں ہم نرمی کا سلوک کر رہے ہیں یہ ہرگز اسلامی تعلیم نہیں ہے۔پھر فرماتے ہیں: بعض ایسے ہیں کہ انہوں نے خلیع الرسن۔تو نہیں کیا مگر اس کے بالمقابل ایسی سختی اور پابندی کی ہے کہ ان میں اور حیوانوں میں کوئی فرق نہیں کیا جا سکتا اور کنیز کوں اور بہائم سے بھی بدتر ان سے سلوک ہوتا ہے۔مارتے ہیں تو ایسے بے درد ہو کر کہ کچھ پتا ہی نہیں کہ آگے کوئی جاندار ہستی ہے یا نہیں۔غرض بہت یہ بری طرح سلوک کرتے ہیں یہاں تک کہ پنجاب میں مثل مشہور ہے کہ عورت کو پاؤں کی جوتی کے ساتھ تشبیہ دیتے ہیں کہ ایک اتار دی دوسری پہن لی۔یہ بڑی ہی خطرناک بات ہے اور اسلام کے شعائر کے خلاف ہے۔رسول اللہ ﷺہ ساری باتوں کے کامل نمونہ ہیں۔آپ کی زندگی میں دیکھو کہ آپ عورتوں کے ساتھ کیسی معاشرت کرتے تھے۔میرے نزدیک وہ شخص بزدل اور نا مرد ہے جو عورت کے مقابلے میں کھڑا ہوتا ہے۔آنحضرت ﷺ کی پاک زندگی کا مطالعہ کرو تا تمہیں معلوم ہو کہ آپ ایسے خلیق تھے باوجود یکہ آپ بڑے با عب تھے لیکن اگر کوئی ضعیفہ عورت بھی آپ کو کھڑا کرتی تو آپ اس وقت تک صلى الله کھڑے رہتے جب تک وہ اجازت نہ دے۔“ (ملفوظات جلد ۲ صفحہ: ۳۸۷) پھر اپنے ایک صحابی کو آپ نصیحت فرماتے ہیں۔نصیحت جو ہے یہ بھی نصیحت کے مضمون میں ایک شاہکار ہے۔بہت ہی سخت قسم کی اطلاعیں ان کی بد خلقی کے متعلق ملیں لیکن بد خلقی کا علاج بدخلقی سے نہیں کیا جاسکتا نرمی اور پیار سے کس رنگ میں سمجھانا چاہئے اس کا میں نمونہ آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔حضرت سید فصیلت علی شاہ صاحب کے نام ایک مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے تحریر فرمایا: باعث تکلیف دہی ہے کہ میں نے بعض آپ کے سچے دوستوں کے زبانی جو در حقیقت آپ سے تعلق اخلاص اور محبت اور حسن ظن رکھتے ہیں سنا ہے کہ امور معاشرت میں جو بیویوں اور اہل خانہ سے کرنی چاہئے کسی قدر آپ