خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 202
خطبات طاہر جلدے 202 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء ہیں یا نیکی سے محبت کرنے والے لوگ ہیں۔چنانچہ وہ ماں باپ جو بد خلق ہوں ان کے بچے ان کی نصیحت کو نہیں قبول کرتے۔کر سکتے ہی نہیں کیونکہ ان کی فطرت ان کو بتا دیتی ہے کہ اس بدخلق نے اپنی بڑائی کی خاطر ہمیں مجبور کرنے کی کوشش کی ہے، ہمیں کمزور سمجھا ہے، ہمیں اپنے سے نیچا دیکھا ہے اور چاہتے ہیں یہ لوگ کہ ہمیں زبردستی اپنے مطابق بنائیں۔بچے اپنی کمزوری کی وجہ سے اپنے رد عمل کو ظاہر نہیں کرتے یعنی بعض دفعہ نہیں کرتے بعض دفعہ پھر جب بہت زیادہ ایسے ماں باپ حد سے بڑھ جائیں تو پھر بد تمیزیاں بھی گھر میں ہونی شروع ہو جاتی ہیں، پھر ان بیچوں بیچاروں کو اور مار پڑتی ہے، بعضوں کی ہڈیاں تو ڑ دی جاتی ہیں مار مار کے کہ ہماری بات کیوں نہیں مانتا حالانکہ وہ یہ نہیں دیکھتے کہ وہ بات نہ ماننے کی ذمہ داری خودان والدین پر ہے۔انہوں نے بچپن ہی سے شروع سے ہی کچھ ایسا رویہ اختیار کیا ہے گھر میں جس کے نتیجے میں بچوں کے دلوں سے ماں باپ کا اعتما داٹھ گیا ہے اور ماں باپ اس قابل نہیں رہے کہ اس کو نصیحت کر سکیں۔بچے پیار اور محبت سے اور خلوص کے ساتھ جو نصیحت کی جاتی ہے اس کے ساتھ بچے پیار اور خلوص کا ماحول بھی ہونا ضروری ہے۔آپ یہ کہہ سکتے ہیں کہ باپ نے نصیحت جو کی تھی اس میں تو سچائی تھی لیکن جو باپ سچا نہیں ہے اس کی نصیحت بھی جھوٹی ہو جایا کرتی ہے۔جو باپ بد خلق ہے اس کی نصیحت میں نیک اثر نہیں رہتا کیونکہ بدخلق آدمی کی نصیحت کوئی دوسرا شخص قبول نہیں کیا کرتا۔اس لئے اپنے گھروں کے معاشرے کو درست کریں اور چھوٹی چھوٹی باتوں کے اوپر تلخیاں پیدا کرنا اور حو صلے ہار بیٹھنا ذراسی کسی کی کمزوری دیکھ کر یہ کوئی مردوں والی صفات نہیں ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جو یہ فرمایا ہے: ہمیں تو کمال بے شرمی معلوم ہوتی ہے کہ مرد ہو کر عورت سے جنگ کریں۔“ کتنے احمدی ہیں جو اس پہلو سے باحیا شمار کئے جاسکتے ہیں اور کتنے احمدی ہیں جو اس پہلو سے بے شرم شمار کئے جاسکتے ہیں۔اس کی تفصیل جانچنے کا تو میرے پاس کوئی ذریعہ نہیں ہے نہ خطبوں میں ایسی تفصیلیں بیان کرنے کا موقع ہوتا ہے لیکن ہر آدمی اپنے آپ کو اس کسوٹی پر پرکھ سکتا ہے اور آسانی سے معلوم ہو سکتا ہے کہ خدا کے نزدیک وہ بے شرموں اور بے حیاؤں میں شمار ہوگا یا با حیا لوگوں میں شمار ہوگا۔