خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 191 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 191

خطبات طاہر جلدے 191 خطبه جمعه ۲۵ / مارچ ۱۹۸۸ء بیویوں سے حسن سلوک کی نصیحت اپنے اندر اخلاق حسنہ پیدا کرنے کی کوشش کریں ( خطبه جمعه فرموده ۲۵ مارچ ۱۹۸۸ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کے بعد حضور نے فرمایا:۔گزشتہ خطبہ جمعہ میں میں نے جھوٹ سے متعلق بہت زیادہ پر ہیز کی ہدایت کی تھی اور جماعت کو یہ نصیحت کی تھی کہ اپنے ارد گرد جھوٹ کے خلاف ایک جہاد شروع کریں جس کا آغاز گھروں سے ہونا چاہئے کیونکہ بالعموم تمام بد عادتیں گھروں میں پرورش پاتی ہیں اور وہاں سے نکل کر پھر گلیوں اور شہروں میں بد مناظر پیدا کرتی ہیں۔جھوٹ تو ہر بیماری کی جڑ ہے، ہر فساد کی جڑ ہے۔ہر قسم کے گناہوں کا آغاز جھوٹ سے ہوتا ہے اور پھر ان گناہوں کا انجام بھی جھوٹ پر ہوتا ہے۔دنیا میں دو قسم کے ایسے دائرے ہیں جو جہاں سے شروع ہوتے ہیں وہیں جا کر مکمل ہوتے ہیں۔نیکی کا دائرہ خدا سے شروع ہوتا ہے، سچائی سے شروع ہوتا ہے اور سچائی ہی پر جا کر انجام پاتا ہے۔انا لله و انا اليه راجعون کا ایک یہ بھی مطلب ہے کہ وہ شخص جس کا آغاز سفر سچائی سے ہوگا اور خدا تعالیٰ سے ہو گا وہ بالآخر خدا تک ہی پہنچے گا اور اس کی ساری زندگی خدا کی طرف حرکت کرنے کی ایک مثال ہوگی۔گویا اس کا ہر قدم جو بظاہر آگے کی طرف اسے لے جا رہا ہے وہ انجام کا راسی منبع تک پہنچ جائے گا جس منبع سے اس کے سفر کا آغاز ہوا تھا۔اسی طرح بدیوں کا حال ہے۔جس شخص کی زندگی کے سفر کا آغا ز جھوٹ سے ہو اس کا انجام لازماً جھوٹ پر ہوتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے پہلے مضمون کو کھول کر بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ تقویٰ کی راہیں اگر تم نے تلاش کرنی ہے تو سفر تقویٰ سے شروع کرنا پڑے گا اور قرآن کریم جو تقویٰ کے سبق