خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 189 of 943

خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 189

خطبات طاہر جلدے 189 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء دلائیں اور اس میں انسانی اخلاقی جرات پیدا کریں کہ پھر وہ بد اعمال کے نتیجہ بھگتنے کے لئے تیار ہو اور جھوٹے خدا کا سہارا نہ لے۔بات وہی شرک پر ہی ٹوٹتی ہے آکر۔یہ بھی شرک کے نتیجے میں ظاہر ہونے والی بات ہے۔اس کے لئے میں نے جیسا کہ بیان کیا ہے بچپن میں بہت زیادہ توجہ کی ضرورت ہے۔بدقسمتی سے ہمارے ملک میں جہالت زیادہ ہے اور اور بھی کئی ملکوں میں جہالت ہے لیکن ہماری جہالت کا جھوٹ کے ساتھ ایک گہرا رشتہ ہے اور اکثر مائیں، اکثر بڑے بھائی بہن، اکثر والد بھی اپنے بچوں میں بعض دفعہ جھوٹ دیکھتے ہیں اور ہنتے ہیں اس کے اوپر اور اس کی چالا کیوں پر لطف اٹھا رہے ہوتے ہیں کہ اس طرح اس نے چالا کی کی اس طرح جھوٹ بولا اور اگلی نسل کی ہلاکت کے ذمہ دار بن جاتے ہیں۔بہت بڑا جرم کرتے ہیں خدا اور بنی نوع انسان کے خلاف۔تو میں امید رکھتا ہوں کہ جھوٹ کے خلاف جہاد کو ایک باقاعدہ منظم مرتب صورت میں ایک منصوبے کے تحت اختیار کیا جائے گا اور یہ ہر ملک کے مجالس عاملہ کا کام ہے کہ اس بارے میں بھی کبھی بیٹھیں اور غور کریں، جائزہ لیں کہ ہمارے ملک میں کیا حال ہے اور جب اس بات کا جائزہ لینا ہو تو اس کا آسان طریقہ یہ ہے کہ جو تنازعات احمدیوں میں پائے جاتے ہیں ان پر غور کر کے دیکھ لیں۔اگر تنازعات کے وقت جھوٹ نہیں بولا جارہا تو قوم کچی ہے۔اگر تنازعات کے وقت جھوٹ بولا جارہا ہے تو قوم بچی نہیں قرار دی جاسکتی۔تنازعات زیادہ ہوں تو زیادہ جھوٹ ہے، تنازعات کم ہوں تو کم جھوٹ ہے یہ بھی ایک علامت ہے۔تو جھگڑے جتنے زیادہ جماعتوں میں پائے جائیں گے اتنا جماعت کے اعمال کا رجحان جھوٹ کی طرف ہے۔جتنا زیادہ جھگڑوں میں جھوٹ بولا جائے گا اتنا ہی زیادہ یہ جھوٹ نما آئینہ ہوگا قوم کے لئے۔اس لئے میں امید رکھتا ہوں کہ حکمت کے ساتھ مناسب تجزیے کے ذریعے جائزے لیں اور پھر ان برائیوں کی تشخیص کر کے ان کو دور کرنے کی کوشش کریں۔خطبہ ثانیہ کے دوران حضور نے فرمایا:۔نماز جمعہ کے بعد کچھ مرحومین کی نماز جنازہ غائب ہوگی۔ایک محمد صادق صاحب ساکن جنگ پور تحصیل و ضلع اوکاڑہ ان کے متعلق چوہدری محمد یعقوب صاحب جن کے غالباً یہ ماموں تھے انہوں نے لکھا ہے بہت نیک مخلص اور سادہ طبیعت انسان تھے ، موصی تھے۔بہت دور دور جا کر ان کو جمعہ پڑھنا پڑتا تھا کیونکہ وہاں ان کے گاؤں میں کوئی اور احمدی نہیں تھا۔انہوں نے لکھا ہے کبھی جمعہ مس نہیں کرتے تھے اور بھی کئی خوبیاں لکھی ہیں مگر بہر حال اس وقت تفصیل سے بیان کرنے کا وقت نہیں۔ایک ہمارے حامد بن ابراہیم صاحب کی جواں سال وفات کی اطلاع ملی ہے۔۲۹ سال کی عمر میں دل کے دورے سے وفات پا گئے۔یہ ہمارے مرحوم شہید ڈاکٹر عقیل بن عبد القادر کی بیگم کے بھانجے تھے گویا عون بن عقیل اور