خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 184
خطبات طاہر جلدے 184 خطبه جمعه ۱۸ / مارچ ۱۹۸۸ء طرف مائل ہو رہے ہیں۔اگر ان میں ہمیشہ یہ عزم زندہ ہے کہ ہم نے مرتوں کو بچانا ہے، ہم نے گرتوں کو تھامنا ہے، ہم نے بگڑتی ہوئی تقدیروں کو سنبھال کے درست کرنا ہے۔تو پھر ایسے لوگ یقینا سچے ہیں اور یہی وہ لوگ ہیں جو زندہ رکھے جاتے ہیں اور زندہ کرنے کی اہلیتیں ان کو عطا کی جاتی ہیں۔جیسا کہ میں نے شروع میں یہ بات کھول دی تھی سارا معاملہ ہی سچ اور جھوٹ کی تمیز کا معاملہ ہے۔اس پہلو سے احمدیوں کو میرا یہ سبق ہے کہ اپنے بیچ کی حفاظت کرے۔یعنی میری نصیحت ہے اور اس پر میں پہلے بھی زور دے چکا ہوں لیکن اس پہ جتنا بھی زور دیا جائے کم ہے کہ جب سچائی اور جھوٹ کا مقابلہ ہو تو بہت ہی ضروری ہے کچی جماعت کے لئے کہ اپنے بیچ کی حفاظت کریں۔اس پہلو سے میں بہت سے رخنے دیکھتا ہوں ، اس پہلو سے میں بہت سی کمزوریاں دیکھتا ہوں، بہت سے جھگڑے میرے سامنے آتے ہیں، بہت سے اختلافات ہیں جو قضا میں چلے جاتے ہیں پھر ان کے مقدمے میرے سامنے پیش ہوتے ہیں ان سے مجھے معلوم ہوتا ہے کہ جو نہایت بلند معیار جس کی جماعت احمدیہ سے توقع کی جاتی ہے اس شان کے ساتھ ہمارے سب احمدیوں میں موجود نہیں بلکہ اس کے برعکس بعض احمدی کھلم کھلا جھوٹ بولتے ہیں۔اس کے برعکس بعض احمدی افترا سے بھی باز نہیں آتے۔چھوٹے چھوٹے ادنی جھگڑوں میں وہ جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔خاندانی رشتہ داریوں میں، عائلی تنازعوں میں کھلم کھلا جھوٹ کا سہارا لیتے ہیں۔پیغام دیتے ہیں لڑکیوں کے ساتھ تو وہاں کوئی جھوٹ بول دیتے ہیں یا بعض چیزوں کو چھپالیتے ہیں جو نہیں چھپانی چاہئیں، صاف گوئی سے کام نہیں لیتے۔اگر چہ خدا تعالیٰ کے فضل سے جس قسم کے مناظر دوسری دنیا میں دکھائی دے رہے ہیں ان کے مقابل پر احمدی بہت بلند معیار رکھتے ہیں اس میں کوئی شک نہیں لیکن احمدی کا معیار جھوٹوں کو مقابل پر رکھ کر نہیں پر کھا جائے گا۔احمدی کا معیار بچوں کو سامنے رکھ کر پر کھا جائے گا اور بچوں میں سے بھی سچائی میں منفر د وجود جس سے زیادہ سچا انسان نہ پیدا ہو نہ ہو سکتا ہے یعنی حضرت محمد مصطفی ہے۔وہ چائی کا شہزادہ جو سچائی کی دنیا میں منفرد ہوکر چمکا، جوسچائی کی کائنات کا سورج تھا۔اس کے سامنے رکھ کر اس کی کسوٹی پر احمدیوں کی سچائی کو پرکھا جائے گا۔اس پہلو سے چونکہ معیار بہت ہی بلند ہے ہم میں سے کوئی بھی ایسا نہیں ہو گا جو اس کسوٹی کے مطابق سچا کہلانے کا مستحق ہو۔اس لئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنے دل کو ٹولنے کی ضرورت ہے۔میں چند لوگوں کو الگ نہیں کرتا میں اپنی ذات کو بھی بیچ میں شامل کرتا ہوں اور آپ سب میرے ساتھ اس میں شامل ہیں۔ہمارا سچائی کا معیار اللہ تعالیٰ نے اتنا بلند مقرر فرما دیا ہے کہ اگر ہم ساری زندگی اس معیار کو حاصل کرنے کی پورے اخلاص کے ساتھ کوشش کرتے رہیں تب بھی یہ مکن نہیں ہے کہ کامل طور پر اس کا نمونہ بن سکیں لیکن یہ ضرور ممکن ہے کہ ہمارا ہر آنے والا دن ہمیں