خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 154
خطبات طاہر جلدے 154 خطبہ جمعدار مارچ ۱۹۸۸ء بٹھائی گئیں کہ وہ اپنے اپنے حصے پر غور کریں اور یہ جائزہ لیں کہ ملکی لحاظ سے کس حد تک مزید پہلومنصوبے میں شامل ہونے چاہئیں اور ملکی لحاظ سے جو کام کی ذمہ داریاں ہیں وہ کیسے بانٹی جائیں گی۔پھر بیرون پاکستان ایک الگ کمیشن مقرر کیا گیا جو بیرون پاکستان کے کام کو مجتمع کرے اور مرکوز کرے کیونکہ ان دنوں میں پاکستان سے مؤثر رابطہ رکھنا ممکن نہیں تھا۔چنانچہ یہ سارے منصوبے یا منصوبوں کے مختلف پہلو بہت حد تک آخری شکل میں تیار ہو چکے ہیں اور ملکی لحاظ سے بھی اور ملکوں کے گروہوں کے لحاظ سے بھی اور پھر ان کے اوپر تمام بیرون پاکستان ملکوں کے مرکزی منصوبے کے لحاظ سے بھی سب جگہ کمیٹیاں بڑی مسلسل محنت کر رہی ہیں اور آپس میں ان کے روابط بھی قائم ہیں لیکن جہاں تک جماعت کے افراد کا تعلق ہے ابھی تک تفصیل کے ساتھ جماعت کے افراد کو اس منصوبے سے یا ان منصوبوں سے آگاہ نہیں کیا گیا اور جس حد تک کام کی ذمہ داریاں بانٹنے کا تعلق ہے اس لحاظ سے بھی میں سمجھتا ہوں کہ جتنے احباب جماعت اس منصوبے کے عملی کاموں میں شامل کر لئے جانے چاہئے تھے اتنے ابھی تک شامل نہیں کئے گئے۔اب سوچنے اور غور کا مزید وقت تو باقی نہیں بہت زیادہ ضرورت ہے کہ جو کچھ غور بھی ہو چکا اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے اس پر فورا عمل درآمد شروع کروایا جائے۔اس ضمن میں افریقہ کے دورے میں بھی میں نے یہ محسوس کیا کہ عملی پہلو سے ابھی بہت سی کمزوری باقی ہے۔سب سے زیادہ نمایاں طور پر جس طرف توجہ مرکوز ہونی چاہئے وہ ہر ملک میں ایک نمائش کی جگہ کا تقر ر یا بڑے ملک ہوں تو ایک سے زیادہ نمائش کی جگہوں کی تقرری اور پھر اگر ضرورت ہو جیسا کہ بعض ملکوں میں ہوگی وہاں متفرق علاقوں کو Vans کے ذریعے جماعتی معلومات مہیا کرنے کا انتظام اور پریس سے رابطہ، ٹیلی ویژن ، ریڈیو وغیرہ سے رابطہ، ہر ملک کی بڑی بڑی شخصیتوں سے رابطہ اور آخری شکل میں کس طرح وہ حصہ لیں گے اور کہاں لیں گے اور کیا حصہ لیں گے۔اس بارے میں معین ان کو اطلاع دینا اور ان سے درخواست کرنا کہ آپ اس پروگرام میں شمولیت فرمائیں۔یہ سارے کام ابھی تک تشنہ تکمیل ہیں عمل کے لحاظ سے۔منصوبے کے لحاظ سے تو جیسا کہ میں نے بیان کیا اللہ تعالیٰ کے فضل سے تمام پہلوؤں پر تفصیلی اور باریک غور ہو چکا ہے۔جو تعمیر کا کام ہے اس کے لئے بڑا وقت درکار ہے اور ان منصوبوں میں یہ ایک پہلو بڑا