خطبات طاہر (جلد 7۔ 1988ء) — Page 10
خطبات طاہر جلدے 10 خطبه جمعه یکم جنوری ۱۹۸۸ء نصیحت کروں اور جماعت کو اس اہمیت کی طرف توجہ دلاؤں۔جماعت نے اگر اپنے بچوں کی حفاظت کرنی ہے، ان کو دیندار بنانا ہے اور ان کو مسلمان رکھنا ہے تو جمعہ کی اہمیت ان پر واضح کئے بغیر ، ان کو جمعہ کا عادی بنائے بغیر وہ ایسا نہیں کر سکیں گے۔کیسا درد ناک منظر ہوتا ہے کہ عیسائی بچے تو ایک دن تیار ہورہے ہوتے ہیں چہ چوں میں جانے کیلئے ،عبادت کیلئے اور مسلمان بچوں کو پتا ہی کچھ نہیں ان کی مائیں ان کو سکول کے لئے تیار کر رہی ہوتی ہیں۔اور ان کو پتا ہی نہیں کہ ہمارے ہاں کوئی عبادت کا بھی خاص دن ہے۔ایسی نسل جب بڑی ہوگی تو اس کے متعلق یہ توقع رکھنا کہ وہ اسلام پر کار بند ہوگی یا ان کے اندر دین کی اہمیت باقی رہے گی۔یہ ایک دیوانے کی خواب ہے اس سے زیادہ اس میں کوئی حقیقت نہیں۔بچوں کے اوپر جمعہ کا بہت گہرا اثر پڑتا ہے اور یہ جمعہ کا نظام ایسا ہے کہ جمعہ سے پہلے کا حصہ اس میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔چنانچہ وہ لوگ جو مسلمان ملکوں میں جوان ہوتے ہیں یعنی بچپن گزارتے ہیں اور بڑھتے ہیں۔ان کو ہمیشہ بات یاد رہتی ہے کہ جمعہ کے دن خاص طور پر ان کو نہلایا دھلایا جاتا تھا، نئے کپڑے پہنائے جاتے تھے اور اگر وہ بھاگتے دوڑتے تھے کھیلتے تھے تو پکڑ پکڑ کر لایا جا تا تھا اور بعض گھروں میں تو باقاعدہ نہلانے والی نائین آیا کرتی تھیں وہ اپنے خاص طریق کے اوپر پانی گرم کرتیں اور بچوں کو نسل دیتیں۔تو یہ جو جمعہ سے پہلے کی تیاری ہے یہ دل پر ایک گہر اثر چھوڑتی تھی اور ایسے نقش جمادیتی تھی جو پھر کبھی مٹ نہیں سکتے۔پھر بڑے اہتمام کے ساتھ جمعہ پر جانا اور جمعہ پر بیٹھ کر نصائح ستہیں جمعہ کے آداب سے واقف ہونا اور ایسے مسائل جو روز مرہ کی زندگی میں انسان کے سامنے نہیں آتے جمعہ کے دن انسان تک پہنچ سکتے ہیں اور بچے خود غور سے ان کو سنتے ہیں۔چنانچہ جب میں نے اپنی حالت پر غور کیا تو مجھے بھی یہ محسوس ہوا کہ بچپن کے زمانہ میں سب سے زیادہ تعلیم وتربیت میں مدا اگر کوئی چیز تھی تو وہ جمعتہ المبارک تھا۔حضرت مصلح موعودؓ کے خطبات آپ کے قریب بیٹھ کے سننے کا موقع ملتا تھا اور تمام دنیا کے مسائل کا اس میں مختلف رنگ میں ذکر آتا چلا جا تا تھا دین کا بھی دنیا کا بھی ، ان کے باہمی تعلقات کا بھی اور سیاست جہاں مذہب سے ملتی ہے جہاں مذہب سے الگ ہوتی ہے ان مسائل کا بھی ذکر۔چنانچہ قادیان میں یہی جمعہ تھا جس کے نتیجہ میں ہر کس و ناکس، ہر بڑے چھوٹے، ہر تعلیم یافتہ غیر تعلیم یافتہ کی ایک ایسی تربیت ہو رہی تھی جو بنیادی طور پر سب میں قدر مشترک تھی۔یعنی پڑھا لکھا یا ان پڑھ، امیر یا غریب اس لحاظ سے کوئی فرق نہیں رکھتا تھا کہ بنیادی طور پر احمدیت کی